اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ملک میں مالی وسائل کی تقسیم کے مجوزہ فریم ورک پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے موجودہ ڈھانچے کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والی مشاورت میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے بنیادی فارمولے اور سماجی تحفظ کے بڑے پروگرام بی آئی ایس پی میں کسی قسم کی بنیادی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ اس فیصلے کو وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی توازن برقرار رکھنے اور موجودہ نظام کے تسلسل کو یقینی بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ انتظام کے تحت صوبوں کی جانب سے وفاق کو اضافی مالی گنجائش فراہم کرنے کے مختلف طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی تفصیلات تکنیکی سطح پر طے کی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق زیر غور فریم ورک کا مقصد وفاق کو درپیش مالی دباؤ میں کمی لانا ہے، جبکہ ساتھ ہی صوبائی خودمختاری اور وسائل کی موجودہ تقسیم کے نظام کو بھی برقرار رکھنا ہے۔ اس معاملے میں پیپلز پارٹی نے واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی جیسے حساس معاملات کو براہ راست تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔
اطلاعات کے مطابق کچھ حلقوں کی جانب سے 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کے حصے پر نظرثانی کی بحث بھی سامنے آتی رہی ہے، تاہم سندھ اس تجویز کی سخت مخالفت کرتا رہا ہے۔ اسی طرح بی آئی ایس پی کو صوبوں کے حوالے کرنے کی تجاویز بھی زیر غور آئیں لیکن ان پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق اب دونوں جماعتیں اس بات پر متفق دکھائی دیتی ہیں کہ مالی ایڈجسٹمنٹ براہ راست این ایف سی حصے میں کمی کے بجائے دیگر بالواسطہ اقدامات کے ذریعے کی جائے، جن میں اخراجات کی تنظیم نو اور بعض ترقیاتی منصوبوں میں رد و بدل شامل ہو سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان یہ مفاہمت آئندہ مالی پالیسی اور بجٹ سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جبکہ اس سے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون کے نئے راستے بھی کھلنے کی توقع ہے۔