حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی قیادت میں شدید پھوٹ، واٹس ایپ گروپ میں وزیراعلیٰ اور علی امین گنڈاپور الجھ پڑے Home / سیاست /

خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی قیادت میں شدید پھوٹ، واٹس ایپ گروپ میں وزیراعلیٰ اور علی امین گنڈاپور الجھ پڑے

ایڈیٹر - 01/06/2026
خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی قیادت میں شدید پھوٹ، واٹس ایپ گروپ میں وزیراعلیٰ اور علی امین گنڈاپور الجھ پڑے

پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا کی قیادت میں شدید اختلافات کھل کر سامنے آ گئے، واٹس ایپ گروپ میں موجودہ وزیراعلیٰ اور سابق وزیراعلیٰ کے درمیان تلخ کلامی اور سنگین الزامات کا تبادلہ۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا کی اندرونی سیاست میں اس وقت گہری دراڑیں اور شدید بحران دیکھنے میں آیا جب پارٹی کے ایک اہم اور مخصوص واٹس ایپ گروپ میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے مابین شدید تلخ کلامی ہوئی۔ ذرائع کے مطابق اس دوران دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے گروپ میں ایک سخت پیغام جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے اندر اور باہر کچھ عناصر ان کی حکومت کو گرانے کی مسلسل سازشیں کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں پسِ پردہ باقاعدہ وعدے بھی کیے گئے ہیں۔ انہوں نے چیلنجنگ انداز اپنائے ہوئے کہا کہ "آئینی عدالت ہو یا کچھ اور، کسی کا باپ بھی حکومت نہیں گرا سکتا، حکومت گرانا تو دور کی بات، اسے ہلا کر بھی دکھائیں تو مان جاؤں گا۔"

وزیراعلیٰ کے ان مبہم اور سخت الزامات پر سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کھل کر اعتراض اٹھایا۔ علی امین گنڈاپور نے پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ "آئی ڈی لاجیکل بنیادوں پر بات کریں، 'اِس کا' اور 'اُس کا' کہہ کر بات کو گول مول کرنے کے بجائے براہِ راست نام کیوں نہیں لیتے۔" انہوں نے مزید سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مفروضوں پر مبنی الزامات عائد کرنا اور دوسروں کو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا وزیراعلیٰ کا اختیار نہیں۔ علی امین گنڈاپور نے جوابی الزام عائد کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ "چھپ کر ملاقاتیں آپ (سہیل آفریدی) کرتے ہیں اور اشارتاً دھمکیاں دوسروں کو دیتے ہیں۔" اس کشیدہ صورتحال نے صوبائی حکومت اور پارٹی صفوں میں موجود شدید اندرونی خلفشار کو بے نقاب کر دیا ہے، جس کی بازگشت اب مختلف میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر بھی بڑے پیمانے پر سنی جا رہی ہے۔