کیئر اسٹارمر نے عندیہ دیا ہے کہ برطانیہ آئندہ چند ہفتوں میں ایران کی عسکری تنظیم پاسداران انقلاب کو دہشتگرد قرار دینے کے لیے قانون سازی کرے گا۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ اقدام کے ذریعے ان حلقوں کے مطالبات پورے کیے جائیں گے جو ایران کی موجودہ مذہبی قیادت کے ناقد ہیں، جبکہ بعض یہودی تنظیمیں بھی طویل عرصے سے اس فیصلے کی حمایت کرتی رہی ہیں۔
اب تک برطانیہ میں انسداد دہشتگردی قوانین کے تحت صرف غیر ریاستی گروہوں کو دہشتگرد قرار دیا جاتا رہا ہے، تاہم اس نئی پیش رفت کو پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو یہ پہلا موقع ہوگا کہ کسی ملک کی باقاعدہ مسلح فورس کو برطانیہ دہشتگرد تنظیم کی فہرست میں شامل کرے گا۔
دوسری جانب یورپی ممالک بھی اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کر چکے ہیں، اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اس طرح کے اقدامات کو عالمی سفارتی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔