پشاور (حسبان میڈیا): حکومت خیبر پختونخوا نے صوبے بھر میں عوام کو صحت کی معیاری اور بروقت سہولیات کی فراہمی کے لیے ایک جامع 48 نکاتی اصلاحاتی پلان پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی حاضری یقینی بنانا اور بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔
رپورٹ کی نمایاں تفصیلات:
- ڈیجیٹل حاضری کا نظام: اسپتالوں میں عملے اور ڈاکٹروں کی حاضری کے دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے "فیشل ریکگنیشن" (چہرے کی شناخت) کا ڈیجیٹل سسٹم متعارف کروا دیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ نظام دو اضلاع میں فعال ہے، جسے جلد پورے صوبے تک پھیلایا جائے گا تاکہ 90 فیصد حاضری یقینی بنائی جا سکے۔
- ادویات کی فراہمی: حکومت نے 1.86 ارب روپے کی لاگت سے ادویات کی خریداری کی منظوری دی ہے تاکہ عوام کو مفت اور معیاری ادویات فراہم کی جا سکیں۔
- اسپتالوں کی اپ گریڈیشن: ثانوی مراکزِ صحت (Secondary Healthcare) کو جدید طبی آلات سے لیس کرنے کے لیے 32 اسپتالوں کی منظوری دی گئی ہے، جن میں سے 95 فیصد کو آلات فراہم کیے جا چکے ہیں۔
- پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ: اسپتالوں کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے 72 اسپتالوں کو نجی شعبے کے اشتراک سے چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں سے 34 اسپتالوں کے لیے اشتہارات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
- خواتین کی صحت: 250 بنیادی مراکزِ صحت میں 24 گھنٹے زچگی (Maternity) کی سہولیات فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس میں سے 60 مراکز میں تزئین و آرائش مکمل کر لی گئی ہے۔
- نئی بھرتیاں: عملے کی کمی دور کرنے کے لیے 2,439 سے زائد میڈیکل افسران اور ڈاکٹروں کی بھرتی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
محکمہ صحت کے ان اقدامات سے دور افتادہ علاقوں میں طبی سہولیات کی رسائی میں واضح بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔