بڑا کریک ڈاؤن: کویت میں 70 ہزار سے زائد افراد اپنی شہریت سے محروم، قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان
کویت سٹی/اسلام آباد (حسبان میڈیا): کویت میں شہریت کے حوالے سے جاری ایک حالیہ اور بڑے پیمانے کی مہم کے نتیجے میں اب تک کم از کم 70 ہزار افراد اپنی کویتی شہریت کھو چکے ہیں۔ کویتی حکومت نے شہریت کے قدیم قانون (1959) میں حالیہ ترامیم کے ذریعے غلط معلومات فراہم کرنے، عوامی نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے۔
رپورٹ کی اہم تفصیلات:
- 70 ہزار سے زائد متاثرین: امریکی جریدے "نیو لائنز میگزین" کے مطابق، 2024 سے جاری اس مہم میں اب تک ہزاروں افراد کی شہریت منسوخ کی جا چکی ہے، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق متاثرین کی تعداد 2 لاکھ 35 ہزار (کویتی آبادی کا 16 فیصد) تک پہنچ سکتی ہے۔
- سخت قوانین: شاہی فرمان نمبر 15 کے تحت ہونے والی ترامیم کا مقصد شہریت کے حصول کو مزید سخت بنانا ہے۔ اب نئے قانون کے تحت شہریت پانے والوں کو تین ماہ کے اندر اپنی کسی بھی دوسری ملک کی شہریت ختم کرنا ہوگی۔
- منسوخی کی وجوہات: حکام نے شہریت کی منسوخی کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ غلط یا جعلی معلومات فراہم کرنے، قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، اور عوامی نظم و ضبط بگاڑنے والوں کی شہریت منسوخ کی جا رہی ہے۔
- خاندان پر اثرات: رپورٹ کے مطابق، جس شخص کی شہریت منسوخ ہوگی، اس کے خاندان کے دیگر افراد کے پاسپورٹ بھی واپس لیے جا سکتے ہیں۔
- جدید نگرانی: کویت اب شہریت کے تنازعات حل کرنے کے لیے ڈی این اے (DNA) ٹیسٹنگ اور بائیومیٹرک شناخت کا استعمال کر رہا ہے۔
- بڑی شخصیات کی شہریت ختم: اس مہم کی زد میں کئی معروف شخصیات بھی آئی ہیں، جن میں سابق سفیر بدر محمد العوضی، عالمی شہرت یافتہ گول کیپر احمد الطرابلسی، اور مشہور مبلغ طارق السویدان شامل ہیں۔