وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
اس حوالے سےاسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا جس میں اہم حکومتی شخصیات اور متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے موجودہ نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس کے دوران پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی تھری اے) کے ڈھانچے اور کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کی اصولی منظوری دی گئی۔ حکومتی فیصلے کے مطابق اس ادارے کو پرائیویٹائزیشن کمیشن کے ماتحت لایا جائے گا تاکہ ترقیاتی منصوبوں میں نجی شعبے کی شمولیت کو بہتر انداز میں منظم کیا جا سکے۔
وزیراعظم نے ہدایت دی کہ مختلف وزارتوں اور سرکاری محکموں کی صلاحیتوں کو بڑھایا جائے تاکہ وہ نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کے منصوبوں کو مؤثر انداز میں شروع اور مکمل کر سکیں۔ مزید برآں، ایسے منصوبوں کو سرکاری اداروں کی کارکردگی جانچنے کے نظام (کے پی آئیز) کا حصہ بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں عالمی اور علاقائی سطح پر رائج کامیاب ماڈلز کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا، جبکہ نئے مجوزہ نظام کے اہم خدوخال پر بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق نئے فریم ورک کے تحت پی تھری اے کی نگرانی کابینہ کمیٹی برائے نجکاری اور متعلقہ ڈویژن کریں گے۔
وزیراعظم نے اس موقع پر واضح کیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کو مزید شفاف، تیز اور مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ ملک میں انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جا سکے۔
اجلاس میں وفاقی وزرا مصدق ملک، اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ عملدرآمد کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا گیا۔