یورپی ملک ہنگری کی نئی حکومت نے بین الاقوامی قانون کے حوالے سے ایک دوٹوک اور غیر معمولی مؤقف اختیار کر لیا ہے۔ نومنتخب وزیراعظم پیٹر میگیار نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت کسی بھی ایسے عالمی رہنما کو گرفتار کرے گی جس کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ جاری ہوں۔
ایک پریس گفتگو کے دوران جب ان سے بنیامین نیتن یاہو کے ممکنہ دورۂ ہنگری کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے اور عدالت کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
وزیراعظم پیٹر میگیار نے یہ بھی اعلان کیا کہ ان کی حکومت بین الاقوامی فوجداری عدالت سے علیحدگی کے عمل کو روک دے گی، جس کا آغاز سابق وزیراعظم وکٹر اوربان نے کیا تھا۔
انہوں نے سابق حکومت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام مبینہ طور پر بنیامین نیتن یاہو کو غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات کے تناظر میں ممکنہ قانونی کارروائی سے بچانے کے لیے کیا گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہنگری کی نئی پالیسی نہ صرف یورپی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر قانون کی حکمرانی کے حوالے سے بھی ایک مضبوط پیغام سمجھی جا رہی ہے۔