اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک): پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنی سیاسی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، تحریکِ انصاف کی قیادت نے اپوزیشن اتحاد کی موجودہ حکمتِ عملی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ ناصر عباس سے فیصلے کرنے کے اختیارات واپس لینے کا پلان تیار کر لیا ہے۔
رپورٹ کے اہم نکات:
- دو ٹوک حکمتِ عملی: ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت اب اسمبلیوں سے استعفے دینے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اس حوالے سے "دو ٹوک پلان" تیار کیا گیا ہے جس کے تحت ایک طرف استعفے اور مزاحمت ہوگی، تو دوسری طرف تمام بڑے فیصلوں کا اختیار پی ٹی آئی اپنے پاس رکھے گی۔
- نئی قیادت کی تشکیل: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی حکمتِ عملی پر تنقید کے بعد، اپوزیشن اتحاد کی قیادت کے لیے سہیل آفریدی کی سربراہی میں ایک نئی ٹیم تیار کر لی گئی ہے۔
- شاہد خٹک کا سخت موقف: رکنِ قومی اسمبلی شاہد خٹک نے واضح کیا ہے کہ اب کوئی بہانہ نہیں چلے گا اور ہمیں خود ذمہ داری لینی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے کی قوت محمود خان اچکزئی سے واپس لے کر چار اہم افراد (سہیل آفریدی، میناخان آفریدی، شاہد خٹک اور شفیع جان) کے سپرد کی جائے گی۔
- اپوزیشن اتحاد میں دراڑ: پی ٹی آئی کے اس فیصلے سے اپوزیشن اتحاد کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے، کیونکہ پارٹی کے اندر ایک بڑا دھڑا اب اتحادی جماعتوں کے بجائے اپنی آزادانہ شناخت اور فیصلوں پر زور دے رہا ہے۔