سینئر صحافی حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی جانب سے حالیہ مذاکرات میں غیر معمولی لچک دکھائی گئی، جس پر امریکی قیادت بھی حیران رہ گئی۔
انہوں نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایران کے مطالبے پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہِ راست رابطہ کیا۔ اس دوران جب ایران کی جانب سے یورینیم پروگرام محدود کرنے پر آمادگی کا ذکر کیا گیا تو صدر ٹرمپ نے اس پر حیرت کا اظہار کیا۔ نائب صدر نے انہیں یقین دلایا کہ ایران واقعی اس مؤقف پر آمادہ ہے۔
مزید یہ کہ جب آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایرانی مؤقف میں نرمی کی بات سامنے آئی تو اس پر بھی امریکی صدر کو آگاہ کیا گیا کہ تہران اس معاملے پر لچک دکھانے کے لیے تیار ہے۔
حامد میر کے مطابق خطے میں لبنان کی صورتحال نہایت حساس رخ اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو اچھا لگے یا برا لگے، موجودہ حالات میں بظاہر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی پرنیتن یاہو کا اثر نمایاں دکھائی دیتا ہے، اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اصل فیصلہ سازی کہیں اور ہو رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ صدر ٹرمپ کو عملی اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ آزادانہ فیصلے کر رہے ہیں اور کسی بیرونی دباؤ کے تابع نہیں۔
سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کھلے عام یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہیں بعض سفارتی سرگرمیوں سے متعلق براہِ راست معلومات فراہم کی جا رہی تھیں، جبکہ واشنگٹن میں لبنان کے حوالے سے جاری بات چیت کو حزب اللہ نے مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان کی حکومت میں حزب اللہ کی نمائندگی موجود ہے، اور اسرائیل کی جانب سے وہاں اندرونی اختلافات کو ہوا دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال میں انہوں نے زور دیا کہ امریکی صدر کو واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے اپنی خودمختار پالیسی کا عملی اظہار کرنا ہوگا۔