اسپین کی حکومت نے ملک میں مقیم تقریباً 5 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی درجہ دینے کے ایک بڑے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم پیدرو سانچیز نے اس اقدام کو وقت کی ضرورت اور سماجی انصاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ پہلے ہی ہسپانوی معاشرے اور معیشت کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔
وزیراعظم کا موقف:
پیدرو سانچیز کے مطابق، اسپین کی آبادی تیزی سے بڑھاپے کی طرف بڑھ رہی ہے، ایسے میں ملکی معیشت اور عوامی سہولیات کے نظام کو سہارا دینے کے لیے ان تارکین وطن کی محنت ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسپین کی تاریخ خود ہجرت سے جڑی ہے، اس لیے ہمیں ان لوگوں کی خدمات کا اعتراف کرنا چاہیے۔
قانون کی تفصیلات اور شرائط:
سیاسی ردعمل:
جہاں حکومت اسے معاشی ضرورت قرار دے رہی ہے، وہیں اپوزیشن جماعت 'پیپلز پارٹی' نے اس کی سخت مخالفت کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اس فیصلے سے غیر قانونی آمد و رفت میں مزید اضافہ ہوگا، اس لیے وہ اسے روکنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
پس منظر:
اعداد و شمار کے مطابق اسپین کی تقریباً 5 کروڑ کی آبادی میں سے 70 لاکھ سے زائد غیر ملکی ہیں، جن میں ایک بڑی تعداد لاطینی امریکی تارکین وطن کی ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب زیادہ تر یورپی ممالک اپنی امیگریشن پالیسیاں سخت کر رہے ہیں۔