معلومات تک رسائی کمیشن کرپشن کا محافظ بن گیا، عوام کو حقائق سے اندھیرے میں رکھنے کی گھناؤنی سازش بے نقاب
صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کا گٹھ جوڑ، کرپٹ مافیا کو بچانے کے لیے اطلاعات روک کر آئین و قانون کی دھجیاں اڑا دیں
پشاور (فیاض علی نور)صحافت کی بنیادی ذمہ داری سچائی کو عوام تک پہنچانا ہے، لیکن جب ریاستی ادارے ہی سچ کو چھپانے کی کوشش کریں تو یہ ایک خطرناک منظرنامہ اختیار کر لیتا ہے۔ خیبرپختونخوا کا محکمہ داخلہ جو کہ اسلحہ لائسنس کی خدمات فراہم کرتا ہے، مالی بے ضابطگیوں کی ایک بھیانک مثال بن چکا ہے۔ معلومات تک رسائی قانون 2013 کے تحت محکمہ داخلہ و قبائلی امور خیبر پختون خوا سے یہ تفصیلات طلب کی تھیں کہ *یکم جنوری 2018 سے 31 دسمبر 2023 تک، یعنی دستک ایپ سے پہلے اسلحہ لائسنس کی مد میں صوبائی حکومت کو کتنی فیس وصول ہوئی اور اس کا تفصیلی ریکارڈ کیا ہے؟* لیکن محکمہ داخلہ نے نہ صرف معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا بلکہ معلومات تک رسائی کے قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی کی۔ یہ وہی محکمہ ہے جو خود کو عوام کی خدمت کے لیے سرگرم کہتا ہے لیکن جب اپنی مالیاتی شفافیت کی بات آتی ہے تو مکمل خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔محکمہ داخلہ کی جانب سے معلومات فراہم نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر 2018 سے 2023 کے اسلحہ لائسنس ریونیو کا موازنہ *2023-24 میں دستک ایپ کے ذریعے حاصل ہونے والے ریونیو* سے کیا جائے، تو بدعنوانی کے تمام دروازے کھل جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ محکمے نے یہ تفصیلات فراہم کرنے کے بجائے مکمل خاموشی اختیار کر لی، کیونکہ اگر عوام کو اصل آمدنی اور اس میں ممکنہ خردبرد کا علم ہو جاتا تو اس سکینڈل کے بڑے کردار بے نقاب ہو جاتے۔ محکمہ داخلہ کی خاموشی پر خیبرپختونخوا انفارمیشن کمیشن سے رجوع کیا تو کمیشن نے *17 دسمبر 2024* کو محکمہ داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ سات روز میں مطلوبہ معلومات فراہم کرے۔ لیکن افسوس کہ اس حکم کو ہوا میں اڑا دیا گیا۔ اس کے بعد *6 مارچ 2025* کو کمیشن نے دوبارہ مراسلہ جاری کیا کہ دس روز میں تفصیلات فراہم کی جائیں، لیکن یہاں بھی وہی کہانی دہرائی گئی یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ خیبرپختونخوا انفارمیشن کمیشن ایک کمزور ادارہ بن چکا ہے، جو عوام کے لیے نہیں بلکہ سرکاری افسران اور بیوروکریسی کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ *جن اداروں کو قانون کے مطابق عوام کو معلومات دینی چاہیے، وہ خود معلومات کمیشن کی سرپرستی میں چھپانے میں مصروف ہیں۔اس تمام معاملے میں حکومت کی خاموشی بھی معنی خیز ہے۔ خیبرپختونخوا کی بیوروکریسی اب کسی احتساب یا قانون کی پابند نظر نہیں آتی بلکہ یہ کرپشن کے سسٹم کو مزید مضبوط کر رہی ہے۔ اگر کوئی صحافی سچ بولنے کی کوشش کرے تو سرکاری افسران اس کے خلاف محاذ کھول لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت واقعی شفافیت پر یقین رکھتی ہے تو وہ محکمہ داخلہ کو معلومات فراہم کرنے پر مجبور کیوں نہیں کرتی؟ یا پھر حقیقت یہ ہے کہ حکومت خود بھی اس کرپشن میں برابر کی شریک ہے؟یہ ایک المیہ ہے کہ جب کسی نے یہ اہم سوالات اٹھائے تو کوئی بھی **روایتی اخبار یا چینل* اس خبر کو شائع کرنے کی ہمت نہ کر سکا۔ یہ حقیقت اب واضح ہو چکی ہے کہ *زیادہ تر اخبارات اور میڈیا ہاؤسز صرف حکومتی تشہیر اور اشتہارات کے بل بوتے پر چل رہے ہیں۔* عوام کے اصل مسائل، کرپشن کے اسکینڈلز، اور حقائق پر مبنی صحافت کی جگہ اب صرف وہ خبریں دی جاتی ہیں جو حکومت کو خوش رکھ سکیں۔یہ وہی اخبارات ہیں جو دن رات *آزادی صحافت کے راگ الاپتے ہیں، مگر جب وقت آتا ہے تو وہی صحافیوں کی آواز دبانے کے لیے حکومت کے سامنے جھک جاتے ہیں۔معلومات کی عدم فراہمی اور روایتی میڈیا کی خاموشی کے بعد عوامی ردعمل سوشل میڈیا پر شدت اختیار کر گیا ہے۔ شہریوں اور صحافیوں نے سوشل میڈیا پر یہ مطالبہ کیا ہے کہ **محکمہ داخلہ کے مالی معاملات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔* معلومات تک رسائی کمیشن کے غیر فعال کردار پر پارلیمانی سطح پر سوالات اٹھائے جائیں۔* بیوروکریسی میں احتساب کا ایک شفاف نظام قائم کیا جائے۔* کرپشن چھپانے والے افسران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔** یہ نظام عوام کے ٹیکس پر پلتا ہے، اور اگر آج ہم نے خاموشی اختیار کی تو آنے والی نسلیں بھی اسی کرپشن کے جال میں پھنسی رہیں گی۔یہ وقت ہے کہ عوام آواز اٹھائیں، حکومت کو جوابدہ بنائیں، اور ان اداروں کو مجبور کریں کہ وہ اپنی لوٹ مار کی تفصیلات فراہم کریں۔