امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کینیڈا سے متعلق سخت بیانات نے وہاں ایک نئی قومی یکجہتی کو جنم دیا ہے، جہاں شہریوں کی بڑی تعداد نے احتجاجاً امریکہ کا سفر ترک کرنے اور امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا رجحان اختیار کر لیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، ان حالات سے کینیڈین قیادت کو بھی فائدہ ہوا ہے، بالخصوص مارک کارنی نے اس ابھرتے ہوئے قومی جذبے کو مزید تقویت دینے میں کردار ادا کیا۔ گزشتہ ہفتے لبرل پارٹی آف کینیڈا کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط اور متحد کینیڈا ہی مستقبل کی ضمانت ہے۔
کارنی نے اپنی تقریر میں ٹرمپ کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست بنانے کی بات کی گئی تھی، جسے کینیڈین عوام نے شدید ردعمل کے ساتھ مسترد کیا۔
تاہم، کارنی کی جانب سے سیاسی وسعت اختیار کرنے اور دیگر جماعتوں سے آنے والے ارکان کو خوش آمدید کہنے کی پالیسی پر ان کی اپنی جماعت کے اندر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ اس حکمت عملی سے پارٹی کے بنیادی اصول متاثر ہو سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں، طویل عرصے تک کنزرویٹو پارٹی آف کینیڈا سے وابستہ رہنے والی رکن پارلیمنٹ میرلین گلیڈو کی حالیہ شمولیت بھی زیر بحث ہے۔ انہوں نے ماضی میں اسقاط حمل کے حق کے خلاف مؤقف اختیار کیا تھا، جبکہ یہ معاملہ لبرل پارٹی کے بنیادی نظریات میں شامل ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، گلیڈو نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ خواتین کے حقِ انتخاب سے متعلق معاملات پر پارٹی پالیسی کے مطابق ووٹ دیں گی، جس سے پارٹی کے اندر پائے جانے والے تحفظات کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔