یورپی ممالک نے خلیج کے نہایت اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع اور کثیر الملکی حکمت عملی پر غور شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کے باوجود تجارتی سرگرمیوں کو برقرار رکھنا ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یورپی دارالحکومتوں میں اس منصوبے کے خدوخال پر مشاورت جاری ہے، جس کے تحت مختلف ممالک کو ایک مشترکہ اتحاد میں شامل کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو درپیش سیکیورٹی خدشات کو کم کیا جا سکے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس مجوزہ حکمت عملی کے تحت بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے خصوصی بحری جہازوں کے ساتھ ساتھ دیگر دفاعی وسائل بھی تعینات کیے جائیں گے، تاکہ اس اہم گزرگاہ کو محفوظ اور فعال رکھا جا سکے۔
مزید برآں، وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یورپی ممالک ایک ایسے طویل المدتی منصوبے پر بھی کام کر رہے ہیں جو ممکنہ تنازع کے بعد کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد امریکا کی براہ راست شمولیت کے بغیر بھی آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری نقل و حمل کو جاری رکھنا ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ پیش رفت عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری راستے کی سلامتی کو یقینی بنانے کی کوشش ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا بھر میں تیل اور گیس کی فراہمی کا ایک کلیدی مرکز تصور کیا جاتا ہے۔