حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پشاور ہائیکورٹ کا وفاقی حکومت سے سوال: "پاکستان نے افغان شہریوں کو 40 سال پاکستان میں کیوں رکھا؟" Home / پاکستان /

پشاور ہائیکورٹ کا وفاقی حکومت سے سوال: "پاکستان نے افغان شہریوں کو 40 سال پاکستان میں کیوں رکھا؟"

ایڈیٹر - 14/04/2026
پشاور ہائیکورٹ کا وفاقی حکومت سے سوال:

پشاور ہائیکورٹ کا وفاقی حکومت سے سوال: "جب کنونشن پر دستخط نہیں کیے تو افغان شہریوں کو 40 سال پاکستان میں کیوں رکھا؟"

پشاور  : پشاور ہائیکورٹ نے افغان باشندوں کی پاکستان میں طویل رہائش اور ان کی قانونی حیثیت کے حوالے سے وفاقی حکومت سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ اگر پاکستان نے مہاجرین سے متعلق بین الاقوامی کنونشن پر دستخط نہیں کیے تھے، تو دہائیوں سے ان شہریوں کو یہاں رکھنے کا کیا جواز تھا؟

کیس کا پس منظر

یہ ریمارکس چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس ایس ایم عتیق شاہ پر مشتمل بینچ نے ایک افغان باشندے، محمد صادق امین کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران دیے۔ درخواست گزار کے وکیل خوشنما ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ:

  • ان کا موکل 2014 میں افغانستان گیا تھا لیکن وہاں جان لیوا خطرات کے باعث 2015 میں واپس پاکستان آگیا۔
  • مذکورہ شہری کا کیس اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) میں زیرِ سماعت ہے، تاہم پولیس نے اسے ایک ماہ قبل گرفتار کر لیا۔

عدالت کے تلخ ریمارکس اور وفاقی حکومت کا موقف

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناء اللہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے "یو این کنونشن فار ریفیوجیز 1951" پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ:

"اگر دستخط نہیں کیے تھے تو 40 سال تک افغان باشندوں کو یہاں کیوں بٹھائے رکھا؟"

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ پاکستان نے اسلامی بھائی چارے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان مہاجرین کو جگہ دی تھی۔

عدالتی احکامات

عدالت نے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ ان تمام افغان شہریوں کی تفصیلات فراہم کرے جن کے کیسز اس وقت UNHCR میں زیرِ سماعت ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ان تفصیلات کی روشنی میں ہی کوئی حتمی آرڈر جاری کیا جائے گا۔

کیس کی مزید سماعت 20 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے اور حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔