چیئرمین بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مالاکنڈ نے امتحانی عمل میں شفافیت کے حوالے سے ایک اہم ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے مبینہ پیپر کی حقیقت واضح کرنے کے ساتھ ساتھ نقل اور دھوکہ دہی میں ملوث افراد کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تفصیل بیان کی۔
چیئرمین کے مطابق پیر کے روز صبح ساڑھے آٹھ بجے اطلاع موصول ہوئی کہ تیمرگرہ میں حبیب بینک کے سامنے واقع ایک فوٹوسٹیٹ شاپ پر بورڈ کا مبینہ پیپر فروخت کیا جا رہا ہے۔ اطلاع ملتے ہی بورڈ کی خصوصی ٹیم نے فوری ایکشن لیا اور موقع سے تمام مواد قبضے میں لے لیا۔ تحقیقات کے بعد ثابت ہوا کہ یہ دراصل سال 2025 کا پرانا پیپر تھا جسے کسی شرپسند نے عوام کو گمراہ کرنے اور امتحانی عمل کو سبوتاژ کرنے کے ارادے سے سوشل میڈیا پر وائرل کیا تھا۔
امتحانی مراکز کی نگرانی کے دوران دو اہم واقعات سامنے آئے۔ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سخاکوٹ میں نجی تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والی دو طالبات کو دوسروں کی جگہ امتحان دیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا اور ان کے خلاف فوری قانونی چارہ جوئی شروع کر دی گئی۔ اسی طرح باجوڑ کے امتحانی مرکز میں بھی ایسے دو کیسز رپورٹ ہوئے جہاں طالبات دوسروں کی جگہ امتحان دے رہی تھیں۔ باجوڑ میں ملوث طالبات کے خلاف فوری طور پر مقدمات درج کر لیے گئے۔
چیئرمین نے بتایا کہ بورڈ ان تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور واٹس ایپ گروپس پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے جو امتحانات کے حوالے سے غلط اور گمراہ کن معلومات پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے کچھ عناصر ان گروپس کو چلانے میں ملوث پائے گئے ہیں جن کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جا رہی ہے۔
چیئرمین مالاکنڈ بورڈ نے امتحانی عمل میں بھرپور تعاون پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا شکریہ ادا کیا اور واضح کیا کہ تمام کارروائیاں خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے طلبہ، والدین اور عوام سے اپیل کی کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں اور امتحانات کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے بورڈ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومتی ہدایات کے مطابق شفاف امتحانی عمل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔