مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے ایک بار پھر خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کا تبادلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حالیہ پیش رفت میں ایران نے اسرائیل کے حساس علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے جنوبی شہر دیمونا اور عراد سمیت متعدد مقامات پر میزائل حملے کیے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائیاں اس وقت سامنے آئیں جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے جواب میں ایران نے مبینہ طور پر کلسٹر وار ہیڈ سے لیس میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق دیمونا میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں کم از کم 51 افراد زخمی ہوئے، جبکہ متعدد عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا، جن میں تین عمارتیں مکمل طور پر تباہ اور ایک عمارت جزوی طور پر منہدم ہو گئی۔ حکام نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ ان حملوں کے دوران اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم مؤثر انداز میں حملوں کو روکنے میں ناکام رہا۔
حکام کا کہنا ہے کہ دفاعی نظام کی ناکامی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی کو بہتر بنایا جا سکے۔
دوسری جانب عراد شہر میں بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جہاں مختلف ذرائع کے مطابق درجنوں افراد زخمی ہوئے، جبکہ بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ اسرائیلی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم 20 عمارتیں متاثر ہوئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے وسطی اسرائیل کے کئی مقامات کو بیک وقت نشانہ بنایا، جس میں کلسٹر وار ہیڈ میزائلوں کا استعمال کیا گیا، جس سے جانی و مالی نقصان میں اضافہ ہوا۔
ادھر اسلامی پاسداران انقلاب کور نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملے ایک نئی عسکری حکمت عملی کا حصہ ہیں، جو امریکا اور اسرائیل کے لیے غیر متوقع ثابت ہوں گے۔ ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ کارروائیاں مزید مؤثر اور شدت اختیار کر سکتی ہیں۔
خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ کسی بڑے تصادم کے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔