حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
نوروز پر پیوٹن کا تہران کو پیغام، روس ہر مشکل گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا رہے گا Home / بین الاقوامی /

نوروز پر پیوٹن کا تہران کو پیغام، روس ہر مشکل گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا رہے گا

ایڈیٹر - 21/03/2026
نوروز  پر  پیوٹن کا تہران کو پیغام، روس ہر مشکل گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا رہے گا

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی نئے سال نوروز کے موقع پر ایران کی اعلیٰ قیادت کو تہنیتی پیغام ارسال کرتے ہوئے تہران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ماسکو مشکل حالات میں ایران کا ایک قابلِ اعتماد دوست اور مضبوط شراکت دار رہے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی صدر نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کو مبارکباد دیتے ہوئے ایرانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔ پیغام میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون پر مبنی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کو خطے میں شدید کشیدگی کا سامنا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق حالیہ حملوں میں بڑی تعداد میں شہری جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں بچوں کی بھی قابلِ ذکر تعداد شامل ہے۔ ان حالات کے تناظر میں روسی صدر نے ایرانی قیادت کے خلاف کارروائیوں کو “سنگدلانہ اقدام” قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔
دوسری جانب، بعض ایرانی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ اگرچہ روس نے سیاسی حمایت کا اظہار کیا ہے، تاہم عملی سطح پر تعاون محدود رہا ہے، جس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ماسکو کا مؤقف ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اقدامات نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ روس کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
ادھر ایک امریکی جریدے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس نے امریکا کو ایک تجویز دی تھی جس کے تحت یوکرین کو انٹیلی جنس سپورٹ بند کرنے کے بدلے ایران کے ساتھ معلومات کے تبادلے کو محدود کیا جا سکتا ہے، تاہم واشنگٹن نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔ روسی حکام نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ روس اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات موجود ہیں، تاہم اس شراکت داری میں باہمی دفاع کی کوئی شق شامل نہیں۔ روس پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ وہ ایران کے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی حمایت نہیں کرتا کیونکہ اس سے خطے میں اسلحے کی دوڑ تیز ہونے کا خدشہ ہے۔