اسلام آباد/کابل: عید الفطر کے موقع پر کشیدگی میں کمی لانے کے لیے پاکستان اور افغانستان نے سرحدی کارروائیوں میں عارضی وقفے کا اعلان کر دیا ہے، جو محدود مدت کے لیے نافذ العمل ہوگا۔
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کے مطابق یہ فیصلہ سعودی عرب، قطر اور ترکی کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ وقفہ 18 اور 19 مارچ کی درمیانی شب سے شروع ہو کر 23 اور 24 مارچ کی درمیانی شب تک جاری رہے گا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس دوران سرحد پار سے کسی بھی قسم کی جارحیت یا دہشتگردی کا واقعہ پیش آیا تو کارروائیاں فوری طور پر دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی ’آپریشن رد الظلم‘ میں عارضی وقفے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم بھی عید الفطر کے احترام اور دوست ممالک کی سفارتی کوششوں کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی سلامتی اور دفاع اولین ترجیح ہے، اور کسی بھی خطرے کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا، اور کابل میں ایک بحالی مرکز پر مبینہ فضائی حملے کے بعد سخت بیانات کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔ ماہرین کے مطابق یہ عارضی جنگ بندی خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم سفارتی پیش رفت ہو سکتی ہے۔