واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا مجوزہ دورۂ چین مؤخر کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران سے متعلق موجودہ صورتحال کے پیش نظر ان کی امریکا میں موجودگی ناگزیر ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق چینی صدرشی جن پنگ کے ساتھ طے شدہ ملاقات کا شیڈول ازسرِ نو ترتیب دیا جا رہا ہے، جبکہ چین نے اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق یہ دورہ 31 مارچ سے 2 اپریل تک ہونا تھا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں انکشاف کیا کہ امریکا مختلف پالیسی آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں آبنائے ہرمز کی سکیورٹی بھی شامل ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کی حفاظت کی ذمہ داری ان ممالک کو سونپی جا سکتی ہے جو اسے استعمال کرتے ہیں، تاکہ اتحادی ممالک زیادہ فعال کردار ادا کریں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں ممکنہ سفارتی اور عسکری تبدیلیوں کا اشارہ ہے، جس کے اثرات عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔