حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
آبنائے ہرمز کی نگرانی کے لیے متعدد ممالک سے رابطہ، ٹرمپ نے چین کو بھی شرکت کی دعوت دے دی Home / بین الاقوامی /

آبنائے ہرمز کی نگرانی کے لیے متعدد ممالک سے رابطہ، ٹرمپ نے چین کو بھی شرکت کی دعوت دے دی

ایڈیٹر - 16/03/2026
آبنائے ہرمز کی نگرانی کے لیے متعدد ممالک سے رابطہ، ٹرمپ نے چین کو بھی شرکت کی دعوت دے دی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تقریباً سات ممالک سے بات چیت کی گئی ہے اور اس حوالے سے چین سے بھی تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔

فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی کے دوران طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ چین سے بھی پوچھا گیا ہے کہ آیا وہ اس مشن میں شامل ہونا چاہتا ہے یا نہیں، اور اب اس کے فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق چین تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز پر نمایاں حد تک انحصار کرتا ہے۔

امریکی صدر نے دیگر ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے تاہم کہا کہ نیٹو اور وہ ممالک جو اس راستے سے توانائی حاصل کرتے ہیں، انہیں بھی اس اہم سمندری گزرگاہ کے تحفظ میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحادیوں کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اگر وہ تعاون نہیں کریں گے تو اس بات کو یاد رکھا جائے گا۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ بعض ممالک کے پاس بارودی سرنگوں سے نمٹنے کی صلاحیت اور خصوصی نوعیت کی کشتیوں سمیت ایسے وسائل موجود ہیں جو اس آپریشن میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

قبل ازیں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر امریکی صدر نے توقع ظاہر کی تھی کہ چائینہ،، فرانس، ، جاپان ، جنوبی کوریا اور برطانیہ  آبنائے ہرمز میں جنگی بحری جہاز بھیج کر سمندری راستے کو محفوظ بنانے میں کردار ادا کریں گے۔

دوسری جانب برطانوی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ خطے میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مختلف امکانات پر مشاورت جاری ہے، جبکہ واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ توانائی کی بلا تعطل فراہمی تمام فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران کسی معاہدے کی خواہش رکھتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا ایران کے ساتھ رابطے میں ہے، تاہم ان کا خیال ہے کہ تہران ابھی مکمل طور پر بات چیت کے لیے تیار نہیں، اگرچہ وہ اس کے قریب پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ کارروائیوں میں ایران کو بھاری نقصان پہنچا ہے اور اگر اسے اس مرحلے پر چھوڑ دیا جائے تو اسے دوبارہ سنبھلنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔