امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ ایران اب جنگ میں ہتھیار ڈالنے کے بہت قریب ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جی سیون ممالک کے رہنماؤں کیسا تھ ور چونٹل اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی قیادت شدید دباؤ میں ہے اب وہاں شائد ہی کوئی ایسا اعلی عہدیدار باقی رہ گیا ہو جو باضابطہ طور پر ہتھیار ڈالنے کا اعلان کر سکے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں صورتحال اب بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور کمرشل جہازوں کو دوبارہ اس راستے سے گزرنے کیلئے آپریشن شروع کرنے چاہئیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے شرکاء کو یقین دلایا کہ ضرورت پڑنے پر امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرے گا،
ادھر ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مجتبی خامنہ ای کے پہلے پیغام کے بعد آگ بگولا ہو گئے اور ایران کو شرپسند سلطنت کہتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای زندہ ہیں مگر ڈیمیجڈ ہو چکے ہیں۔
ڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اہم ہے، تہران دنیا کو تباہ کر سکتا ہے اور میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔