نثار الحق
رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ، جسے عشرۂ مغفرت کہا جاتا ہے، دراصل بندۂ مومن کے لیے رجوع الی اللہ اور حقیقی احتساب کا مرحلہ ہے۔ پہلا عشرہ رحمت کی بارش لے کر آیا تھا اور اب یہ ایام ہمیں اپنی خطاؤں پر ندامت، دل کی اصلاح اور معافی کی طلب کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہ وہ مبارک وقت ہے جب بندہ اگر سچے دل سے پلٹ آئے تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دیتا ہے اور اس کے بوجھل دل کو سکون عطا کرتا ہے۔
اس عشرے کا بنیادی پیغام استغفار ہے۔ استغفار محض الفاظ کی تکرار نہیں بلکہ احساسِ ندامت اور آئندہ گناہوں سے بچنے کے پختہ عزم کا نام ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دن اور رات کے مختلف اوقات میں کثرت سے استغفار کریں، خصوصاً سحری کے وقت اور نمازوں کے بعد۔ قرآنِ کریم میں سحر کے وقت استغفار کرنے والوں کی خصوصی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اگر ہم روزانہ کچھ وقت خاموشی کے ساتھ اپنے گناہوں کو یاد کر کے اللہ کے حضور جھک جائیں تو یہ لمحے ہماری زندگی بدل سکتے ہیں۔
عشرۂ مغفرت خود احتسابی کا بھی بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ ہمیں اپنی عبادات، معاملات، اخلاق اور تعلقات کا جائزہ لینا چاہیے۔ کیا ہماری نماز میں خشوع ہے؟ کیا ہم سچائی اور دیانت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں؟ کیا ہم نے کسی کا دل دکھایا ہے؟ اگر کسی سے زیادتی ہوئی ہو تو اس سے معافی مانگنا بھی مغفرت کے سفر کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ حقوق العباد کی ادائیگی کو بے حد اہمیت دیتا ہے، اس لیے اس عشرے میں دلوں کو صاف کرنا بھی ضروری ہے۔
رمضان چونکہ قرآن کا مہینہ ہے، اس لیے اس عشرے میں قرآن سے تعلق کو مزید مضبوط کرنا چاہیے۔ صرف تلاوت ہی نہیں بلکہ ترجمہ اور مفہوم کو سمجھنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے تاکہ ہم جان سکیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔ گھر کے ماحول کو قرآنی نور سے منور کرنا، اہلِ خانہ کے ساتھ مل کر تلاوت کرنا اور کسی ایک آیت پر بھی غور کرنا روحانی ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اس عشرے میں مسنون دعاؤں کا اہتمام خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اگرچہ “عشرۂ مغفرت” کے لیے کوئی مخصوص دعا متعین نہیں، تاہم مغفرت سے متعلق کئی مسنون دعائیں احادیث میں موجود ہیں جنہیں کثرت سے پڑھنا چاہیے۔ مثال کے طور پر:
اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَیْہِ
(میں اللہ سے اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں)
اسی طرح درودِ شریف کی کثرت بھی مغفرت اور قربِ الٰہی کا ذریعہ بنتی ہے۔ صدقہ و خیرات کو معمول بنانا، کسی ضرورت مند کی مدد کرنا اور اپنے مال کو پاک کرنا بھی گناہوں کے بوجھ کو ہلکا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
یہ عشرہ دراصل تیسرے عشرے کی تیاری بھی ہے، جس میں نجات من النار اور شبِ قدر کی عظیم ساعتیں شامل ہیں۔ اگر ہم ابھی سے اپنی مصروفیات کو منظم کر لیں، غیر ضروری مشاغل کم کر دیں اور عبادات کے لیے وقت مختص کر لیں تو آخری عشرے میں زیادہ یکسوئی حاصل ہو سکتی ہے۔
عشرۂ مغفرت ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ انسان خطا کا پتلا ضرور ہے، لیکن اللہ کی رحمت اس کی لغزشوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم سچے دل سے توبہ کریں، بندوں کے حقوق ادا کریں اور اپنے رب سے تعلق کو مضبوط کریں۔ ممکن ہے یہی عشرہ ہماری زندگی کا وہ موڑ ثابت ہو جائے جہاں سے ہماری مغفرت کا فیصلہ ہو جائے اور ہماری روح کو حقیقی سکون نصیب ہو جائے۔