افغانستان کے صوبے خوست میں طالبان حکومت کی جانب سے ایک ہی روز کم از کم 36 افراد کو سر عام کوڑے مارے گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مختلف جرائم میں گرفتاران 36 ملزمان کو طالبان کی سپریم کورٹ نے نہ صرف سر عام کوڑے مارنے بلکہ قید کی سزائیں بھی سنائی تھیں۔
جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے آج سرعام 36 سزا پانے والے 36 ملزمان کو جرم کے اعتبار سے 10 سے 39 کوڑے مارے گئے جب کہ 1 سے 2 سال تک جیل میں بھی رکھا جائے گا۔
طالبان حکام نے بتایا کہ جن ملزمان کو سر عام کوڑے مارے گئے اور قید کی سزا سنائی گئی ان پر منشیات کے استعمال، غیر اخلاقی تعلقات، چوری اور دیگر جرائم کے الزامات ثابت ہوئے تھے۔
طالبان کے اعلان کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک 17 صوبوں میں کم از کم 140 افراد کو سرعام کوڑے مارے گئے جن میں 8 خواتین بھی شامل ہیں۔
یہ سزائیں زیادہ تر کابل، فاریاب، بلخ، بنگر ہار، ہرات، پکتیا، پکتیکا، بدخشاں اور دیگر کنی علاقوں میں بھی دی گئی ہیں۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ نے بارہا ان سزاوں پر طالبان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے غیر انسانی قرار دیا ہے۔