پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی کا ذمہ دار موجودہ صوبائی حکومت کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2013 میں ایک پُرامن خطہ پی ٹی آئی کے حوالے کیا گیا تھا، مگر آج اسی صوبے میں دہشت گردی دوبارہ جڑ پکڑ چکی ہے۔
گورنر کا کہنا تھا کہ اگر صوبے کا سربراہ یہ مؤقف اختیار کرے کہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن حکومتی منظوری کے بغیر ہوا اور انہیں اس کی پیشگی اطلاع تک نہیں تھی، تو یہ محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ صوبائی نظام کی مکمل ناکامی کا اعتراف ہے۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال میں قیادت کا کردار محض بیانات تک محدود ہو جانا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ موجودہ حالات میں عوام کو سیاسی نعروں اور تقاریر کی نہیں بلکہ فیصلہ کن اور ذمہ دار قیادت کی اشد ضرورت ہے، بالخصوص وادی تیراہ اور ضلع کرم کے باسیوں کو، جو اس وقت سیکیورٹی خدشات اور بے گھر افراد کی بحالی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔
انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو مشورہ دیا کہ وہ سیاسی تماشہ آرائی ترک کریں اور اپنی تمام تر توانائیاں صوبے میں امن و امان کی بحالی پر صرف کریں۔ گورنر کے مطابق سیاسی کشمکش اور باہمی محاذ آرائی نے صوبے کو جمود کا شکار کر دیا ہے، جبکہ عوام اب اس صورتحال سے نکلنے کے خواہاں ہیں۔