امریکی ریاست پنسلوانیا میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں 11 سالہ لڑکے نے مبینہ طور پر موبائل گیمز کھیلنے سے انکار پر اپنے والد کو گولی مار کر قتل کر دیا۔
پولیس کے مطابق 42 سالہ ڈگلس ڈیٹس اپنے گھر میں مردہ پایا گیا تھا جس کے سر پر گولی لگی تھی۔
ابتدائی تحقیقات کے بعد پولیس نے مقتول کے 11 سالہ بیٹے کلیٹن کو گرفتار کر کے اس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقتولہ کا کمرہ بچے کے کمرے کے ساتھ ہی واقع تھا اور فائرنگ کا واقعہ رات کے وقت پیش آیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ بچے کی سالگرہ کے موقع پر پیش آیا۔ چند گھنٹے قبل گھر میں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا تھا اور والدین نے بچے کو ہیپی برتھ ڈے گایا تھا۔
متاثرہ کی بیوی نے پولیس کو بتایا کہ وہ تیز آواز سے بیدار ہوئی اور اسے جلنے یا آتش بازی جیسی چیز کی بو آ رہی تھی۔ شوہر کو جگانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ بے ہوش تھا۔
خاتون کے مطابق اس نے ابتدا میں مائع ٹپکنے کی آواز سنی لیکن جب اس نے لائٹ آن کی تو اسے معلوم ہوا کہ یہ پانی نہیں بلکہ اس کے شوہر کا خون ہے۔ اسی لمحے، کلیٹن کمرے میں داخل ہوا اور چیخا، "ڈیڈی مر گئے، میں نے ڈیڈی کو مار ڈالا۔"
پولیس دستاویزات کے مطابق بچے نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ وہ بہت ناراض تھا کیونکہ اس کے والد نے اسے سونے کا کہا اور موبائل گیم چھین لیا۔
بچے نے بتایا کہ اسے اپنے والد کے دراز کی چابی ملی تھی، جس سے اس نے الماری میں موجود سیف کو کھولا، پستول نکالا، اس میں گولیاں ڈالیں اور اپنے والد کے بستر کے قریب جا کر فائرنگ کی۔
پولیس کے مطابق بچے کی والدہ کو معلوم تھا کہ گھر میں اسلحہ موجود ہے تاہم وہ نہیں جانتی تھی کہ اسلحے کی دراز کی چابی کہاں رکھی ہے۔ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔