اسلام آباد ۔وفاقی حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کے بعد یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ قومی ایئر لائن کے کون سے اثاثے بیچے گئے اور حکومت کو کتنی رقم ملے گی۔
پی آئی اے کی نیلامی کے بعد سب سے زیادہ پو چھا جانے والا سوال پاکستان اور بیرون ملک موجود پی آئی اے کے سیکڑوں ارب روپے کے اثاثوں سے متعلق ہے۔ پی آئی اے پاکستان سمیت بیرونِ ملک بھی مختلف جائیدادوں اور اہم اثاثہ جات کی مالک ہے۔
جس میں جہازوں کا بیڑہ، فائیو اسٹار ہوٹلز، تقریبا 97 انٹرنیشنل روٹس، دنیا کے بڑے ایئر پورٹس پر لینڈنگ اور ٹیک آف کے حقوق مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری، ملک بھر میں دفاتر ، جائیدادیں اور دیگر اثاثے بھی شامل ہیں۔
یہ تمام اثاثے پہلے قومی ایئر لائن کی ملکیت تھے تاہم ماضی میں پی آئی اے کی نیلامی کے لیے انتہائی کم بولیاں وصول ہونے کے بعد مئی 2024 میں حکومت نے پی آئی اے کو دو حصوں، پی آئی اے کارپوریشن لمیٹڈ اور پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ میں تقسیم کر دیا تھا۔
مشیر نجکاری محمد علی نے بدھ کو پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ نیلامی میں پی آئی اے کی جائیداد میں شامل نہیں۔
نیلامی میں صرف پی آئی اے کے وہ اثاثے روٹس اور جہاز فروخت کئے گئے ہیں جو ایئر لائن چلانے کے لیے ضروری ہیں جبکہ رئیل اسٹیٹ، ہوٹلز، سرمایہ کاری اور قرضے حکومت کی زیر ملکیت کمپنی کے پاس رہیں گے۔
پی آئی اے کے اثاثوں کو سمجھنے کے لیے پہلے ادارے کی دو کمپنیوں سے متعلق جاننا ضروری ہے۔ آپی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لینڈ پی آئی اے کی مختلف جائیداد میں اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری اس کمپنی کی ملکیت ہے۔
جس میں 1025 کمروں پر مشتمل نیویارک کا روز ویلٹ ہوٹل اور پیرس کا اسکرائب ہوٹل بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ پریسیشن انجینئرنگ کمپلیکس ( پی ای سی)، پی آئی اے انویسٹمنٹ لمیٹڈ اور ملک بھر میں موجود دفاتر اور پلاٹ سمیت تقریبا 26 جائیدادیں بھی اسی کمپنی کی ملکیت ہیں۔
قومی ایئر لائن کے تقریبا 650 ارب روپے سے زائد کے قرضے اور واجبات بھی اسی ہولڈنگ کمپنی کے ذمے ہیں۔ -2 پی آئی اے کارپوریشن لمیٹیڈ اس کمپنی میں ایئر لائن کے وہ بنیادی اثاثے شامل ہیں جو پرواز میں چلانے کے لیے ضروری ہیں۔
نجکاری کمیشن کے مطابق پی آئی اے بیڑے میں اس وقت 34 جہاز ہیں، جس میں سے 18 آپریشنل اور 16 گرانڈڈ ہیں۔ یہ تمام اس کمپنی کا حصہ ہیں۔
نیلامی میں صرف پی آئی اے کے وہ اثاثے (روٹس اور جہاز وغیرہ فروخت کیے گیے ہیں جو ائیر لائن چلانے کے لیے ضروری ہیں جن میں پروازیں ، کارگو، کیٹرنگ اور ایوی ایشن سروسز شامل ہے۔
جبکہ پی آئی اے کے اہم اثاثے جیسے روز ویلٹ ہوٹل اور پیرس کا ہوٹل اسکرائب معاہدے میں شامل نہیں ہے۔ اسی طرح رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری اور قرضے حکومت کی زیر ملکیت ہولڈنگ کمپنی کے پاس رہیں گے۔