پشاور ۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے قائم ادارہ ریسکیو 1122 میں سیاسی مداخلت دباؤ اور انتظامی کمزوری کا سنگین بحران پیدا ہو گیا حالیہ پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے فیصلے سے ملازمین تذبذب کا شکار ہو گئے،
سوات، ہری پور، کو ہاٹ اور پیٹ آباد میں گریڈ 17 کے افسران کی تعیناتی اور پشاور، کوہاٹ، سوات اور بٹگرام کے گریڈ 18 کے افسران کو ہیڈ کوارٹر رپورٹ کرنے کی ہدایات نے ادارے کی انتظامی کمزوریوں نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا۔
ذرائع کے مطابق ریسکیو 1122 کے سر براہ اور ڈائریکٹر جنرل اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے بجائے سیاسی تقاضوں کے تحت ٹرانسفر کر رہے ہیں گزشتہ ایک ماہ کے دوران 50 کے قریب ٹرانسفر ز صرف بھیجی گئی،
فہرست کے مطابق کئے گئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سر براہ ادارے کے اپنے فیصلے کرنے سے قاصر ہیں اور صرف سیاسی دباؤ کی پیروی کر رہے ہیں اس کے نتیجے میں کئی اضلاع میں اہلکاروں کی شدید کمی ہوئی ہے جبکہ بعض اضلاع میں ضرورت سے زائد عملہ موجود ہے جو نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ ادارے کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور عوامی اعتماد کو براہ راست نقصان پہنچا رہا ہے۔
متعدد ڈسٹرکٹ ایمر جنسی آفیسر ز نے واضح کیا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر کئے جانے والے یہ یکطرفہ ٹرانسفرز ایمر جنسی خدمات کی فراہمی کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں اور عوامی زندگی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔