یونان میں غیر قانونی طریقے سے ڈنکی لگا کر آنے والوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع ہو گیا ہے۔
جہاں وزیرِ مہاجرت پالیسی تھانوس پلے وریس کے مطابق حالیہ دنوں میں پاکستان، بنگلہ دیش، شام، مصر اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے 80 غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔
وزیر کا کہنا ہے کہ 14 سال بعد دمشق کے لیے پہلی ڈی پورٹیشن فلائٹ بھی روانہ کر دی گئی ہے جبکہ آنے والے دنوں میں مزید 550 افراد کو ملک بدر کیا جا رہا ہے۔
یونانی حکومت نے دو ٹوک پیغام دے دیا ہے کہ غیر قانونی داخلہ، ڈنکی روٹس اور جعلی پناہ کی درخواستوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی اور ڈی پورٹیشن اب ریاستی پالیسی کی اولین ترجیح بن چکی ہے۔