کے پی پبلک سروس کمیشن کی جانب سے 112 سویل ججوں کی آسامیاں مشتہر ہونے کے بعد جاری کردہ نتائج نے نئے ضم شدہ اضلاع میں شدید مایوسی کی لہر دوڑا دی ہے—کیونکہ زون ون (سابق فاٹا اضلاع) سے کوئی بھی امیدوار کامیاب فہرست میں جگہ نہیں بنا سکا۔ 112 خالی آسامیوں میں سے صرف 12 امیدواروں کو سفارش کے لیے موزوں قرار دیا گیا، جبکہ **100 آسامیاں خالی رہ گئیں** جنہیں کمیشن کے مطابق دوبارہ مشتہر کیا جائے گا۔
ضم شدہ اضلاع کے رہائشی، وکلاء اور نوجوان کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ نتیجہ مستقل ڈھانچہ جاتی عدم توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ خیبر ضلع کے ایک قانونی ماہر کے مطابق:
*"تاریخی ناانصافیوں کو دور کرنے کے بجائے نظام ہمارے علاقے کے امیدواروں کو مزید پس منظر میں دھکیل رہا ہے۔"*
کمیونٹی ارکان کا کہنا ہے کہ عدالتی عہدوں میں نمائندگی کا نہ ہونا شمولیت کے عمل کو کمزور کرتا ہے اور 25ویں آئینی ترمیم کے بعد ضم شدہ اضلاع کو مرکزی دھارے میں لانے کے وعدے کو متاثر کرتا ہے۔
وکلاء برادری نے بھی نتائج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں قانونی تعلیم اور پیشہ ورانہ مواقع کے باوجود، اعلیٰ سرکاری امتحانات میں کامیابی کی شرح نہایت کم ہونا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ امیدواروں کو مساوی تیاری اور رہنمائی میسر نہیں۔ شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل نے کہا:
*"اگر ہمارے علاقے کے امیدوار مسلسل پیچھے رہ جائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نظام میں کہیں نہ کہیں خلا موجود ہے—یا تو معیارِ جانچ، یا تیاری کے مواقع، یا دونوں۔"*
کئی وکلاء نے مطالبہ کیا کہ کمیشن تحریری و انٹرویو مراحل کے لیے شفاف معیار، تفصیلی مارکنگ اسکیم اور فیڈ بیک میکانزم متعارف کرائے تاکہ امیدوار اپنی کمزوریوں کو سمجھ کر بہتر تیاری کر سکیں۔ ایک وکیل کے مطابق:
*"جب اتنی بڑی تعداد میں امیدوار انٹرویو میں ناکام ہوں تو لازمی ہے کہ سلیکشن کے طریقۂ کار کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔"*
ادھر ضم شدہ اضلاع کے قانون کے طلبہ اور نوجوانوں نے نتائج کو "حوصلہ شکن" قرار دیا۔ باجوڑ سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے کہا:
*"ہماری نسل نے یہ امید لگائی تھی کہ انضمام کے بعد مساوی مواقع ملیں گے، لیکن بار بار نمائندگی سے محرومی ہمیں مایوس کر دیتی ہے۔"*
ایک طالبہ نے بتایا:
*"ہمیں نہ تو بڑے شہروں جیسی کوچنگ میسر ہے اور نہ ہی انٹرویو کی پیشہ ورانہ رہنمائی۔ اگر حکومت واقعی شمولیت چاہتی ہے تو ضم شدہ اضلاع کے لیے سپورٹ سسٹم بنانا ہوگا۔"*
طلبہ کا کہنا ہے کہ پشاور، اسلام آباد یا لاہور میں دستیاب معیاری تیاری کے وسائل تک رسائی محدود ہونے کے باعث بہت سے باصلاحیت امیدوار پیچھے رہ جاتے ہیں۔ نوجوانوں نے تجویز دی کہ صوبائی حکومت اور عدلیہ کے اشتراک سے ضم شدہ اضلاع میں سیول جج امتحانات کے لیے **خصوصی پریپ پروگرامز، موک انٹرویوز، اور میرٹ بیسڈ اسکالرشپس** شروع کی جائیں۔
ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ انٹرویوز میں غیر معمولی حد تک ناکامی—جو اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی—تشخیصی عمل پر مزید سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت، عدلیہ اور کے پی پی ایس سی پر زور دیا ہے کہ وہ جانچ کے معیار کا ازسرِنو جائزہ لیں، انٹرویو کے عمل میں معروضیت اور شفافیت بڑھائیں، اور پسماندہ علاقوں کے امیدواروں کے لیے مؤثر معاون اقدامات متعارف کرائیں۔