حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کاقرضہ 870 ارب روپے تک پہنچ گیا Home / پاکستان /

صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کاقرضہ 870 ارب روپے تک پہنچ گیا

ایڈیٹر - 09/12/2025
 صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کاقرضہ 870 ارب روپے تک پہنچ گیا

پشاور ۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کو بتایا گیا کہ گزشتہ چار ادوار میں صوبائی حکومت کی طرف سے لئے گئے قرضے 870 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔

30 جون 2024 تک صوبائی حکومت کے ذمے مجموعی غیر ملکی زرمبادلہ قرضہ 679.547 ملین روپے ہے جو ایک امریکی ڈالر 285 روپے کے شرح تبادلہ کی بنیاد پر شمار کیا گیا ہے۔

موجودہ وقت میں خیبر پختو نخوا حکومت کے ذمے کسی بھی قسم کا کوئی ملکی قرضہ واجب الادا نہیں، اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران پی پی کے پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی نے سوال کیا کہ 2008 سے لیکر 2024 تک لئے گئے قرضوں کی مقدار 870 ارب تک پہنچ چکی ہے معاملے کو سٹینڈنگ کمیٹی بھیجا جائے چیئر مین سٹینڈنگ کمیٹی وایم پی اے ارباب عثمان نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کو اہمیت نہیں دی جارہی ہے نوٹیفکیشن کے باوجود محکمہ خزانہ ہمیں جواب نہیں دے رہا ہے

ڈیپارٹمنٹس کو پابند بنایا جائے کہ وہ رولز کے مطابق ہمیں ایک ہفتہ میں جواب دیا کریں سپیکر نے کہا میں ریکارڈ طلب کر لیتا ہوں کو تا ہی ہوئی ہو تو کوئی سیکرٹری قابل نہیں ہو گا کہ وہ اپنے عہدے پر قائم رہے۔

وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ ڈالر میں اضافہ کی وجہ سے قرضوں کا حجم بڑھا ہے سوال قائمہ کمیٹی جانے سے ہمیں اعتراض نہیں جس پر ایوان کی منظوری سے پیکر نے سوال سٹینڈنگ کمیٹی ریفر کر دیا ۔

ایم پی اے اشہر جدون کے سوال پر ایوان کو بتایا گیا کہ مالی سال 2024-25 کے دوران صوبہ کو کسی قسم کا مالی خسارہ در پیش نہیں تھا بلکہ حکومت نے مالی نظم وضبط موثر منصوبہ بندی کی بدولت 178 ارب روپے فاضل ظاہر کیا جس کی

تفصیلات کے مطابق کل آمدن 1,482,767 ارب روپے، کل اخراجات 1,477.736 ارب روپے جبکہ فاضل 5.031ارب روپے تھا ایم پی اے احسان اللہ کے سوال پر متعلقہ وزیر نے جواب دیا کہ 2022 میں دس ارب روپے میں چار ارب 90 کروڑ کی ادائیگی سیلاب متاثرین کو ہو چکی ہے جبکہ باقی افراد کو ادائیگی کیلئے 2022ء میں پی ڈی ایم حکومت میں فنانس کو کیس بھیجا گیا تھا جس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا تاہم متاثرین کو بر وقت ادائیگی کیلئے ہدایات جاری کرینگے ۔

ن لیگ رکن آمنہ سردار نے بینک آف خیبر میں صوبائی حکومت کی طرف سے ڈائریکٹر کی نامزدگیوں کی تفصیلات مانگی جس پر وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ پرائیویٹ بورڈ آف ڈائریکٹر کی شرح زیادہ تھی ان کے شیئر سے، بعد ازاں ان کی تعداد کم کر دی تھی محرک رکن نے درست فرمارہی ہیں کہ انہیں ڈائر یکٹر کی تفصیلات نہیں دی گئی سپیکر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈیپارٹمنٹس کی نا اہلی کو کیوں چھپاتے ہیں جس نے جواب دیا ہے اس سے وضاحت طلب کریں تنخواہیں  اور سہولیات یہ پوری لے رہے ہیں اداروں کا یہ حال ہے جس کے بعد انہوں نے سوال قائمہ کمیٹی بھیج دیا۔