تحریر : سید زاہد جان
ضلعی محکمہ زراعت اپر دیر نے خیبر پختونخوا حکومت کے تعاون سے پہلی بار قیمتی اور کارآمد زعفران کی تجرباتی بنیادوں پر کامیاب کاشت کردی ۔ضلع اپر دیر کے تین تحصیلوں دیر،واڑی اور لرجم کے مختلف مقامات پر سولہ کنال اراضی کو زعفران کیلئے استعمال کی گئی جو کہ انتہائی کامیاب رہا۔ مقامی زمینداروں نے زعفران کی کاشت کو خوش آئند قرار دیکر خوشی کا اطہار کیا۔ اس سلسلے میں جب محکمہ زراعت اپر دیر کے ڈائریکٹر اسلام الحق اور ڈپٹی ڈائریکٹر محمد پرویز کے ساتھ رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں زعفران کاشت کرنے کیلئے ابتدائی طور محکمہ زراعت کا سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی ) اسکیم کے تحت آٹھ اضلاع منتخب کئے گئے جن میں ضلع اپر دیر بھی شامل تھا۔
کیونکہ زعفران کی کاشت کیلئے ضلع اپر دیر کی آب و ہوا بہت موزوں اور مناسب ہے اور خیال کیا جارہا ہے تھا کہ یہاں زعفران کی فصل اور کاشت کامیاب ہوگی۔ تاہم ایک نئے تجربے کے تحت زمیداروں کو نئے فصل کی کاشت کی راضی کرنا بھی ایک اہم مسئلہ تھا تاہم دیگر اضلاع کی کسانوں اور زمینداروں کی نسبت ہمارے ہاں رجسٹرڈ زمینداروں کو زعفران کی کاشت کیلئے جلدی راضی کرلیا ۔
ڈائریکٹر محکمہ زراعت اسلام الحق کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر ہم نے ضلع اپر دیر میں پہلی بارتجرباتی بنیادوں پر زعفران کی پیج (بلب) لگائے ۔ زعفران فصل اگانے کیلئے ضلع میں تین تحصیلوں کا انتخاب کیا گیا کیونکہ زعفران کیلٗے ایک جانب مناسب سرد موسم اور موزوں آب ہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس لئے ابتدائی طور پراسکو تحصیل دیر ، تحصیل واڑی اور تحصیل لرجم کے علاقوں کا انتخاب کیا گیا۔ مزکورہ تحصیلوں کے مختلف علاقوں نہاگ درہ، گندیگار،عشری درہ اور ڈوڈبا دیر کے علاقوں میں زمینداروں کو زعفران کی بلب (بیج) کاشت کرنے کیلئے دیئے گئے ۔جو کاشت کے بعد الحمدللہ انتہائی کامیاب تجربہ رہا۔
اس تجرنے کا جائزہ لینے محکمہ زراعت کے آفسران کے ہمراہ میڈیا ٹیم نے دورہ کیا اور زعفران کی فسل کو دیکھا اور اس بارے مزید آگہی بھی حاصل کی۔ جس کیلئے محکمے کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد پرویز ، فیلڈ انسپکٹر عبیداللہ نے معاونت کی اور ان علاقوں میں کاشت کو فصل کے زمینداورں سے بھی ملاقات کروائی گئی ۔ تاکہ ان زمینداروں سے زعفران کی کاشت کا مراحل کے بارے میں تفصیلات لے سکیں۔
گندیگار کے ایک مقامی زمیندار اعجاز خان جنہوں نے تین کنال کے زمین پر زعفران کی بیج (بلب) کاشت کی تھی بتایا کہ شروع میں ہمیں مشکلات کا سامنا تھا کہ کیا زعفران کیلئے اگر ہم اپنا زمین اور دیگر فصل کی قربانی دے سکو تو کیا یہ نیا تجربہ زعفران کاشت کامیاب ہوگی؟ یا نہیں لیکن اللہ کے فضل سے زعفران کی فصل توقع سے زیادہ کامیاب رہی ۔ اور جب ستمبر میں اس کو کاشت کی تو زعفران کی بلب نے پودے اگائیں اور اس میں کامیایؤبی کے ساتھ زعفران کے پھول ہوگئے ۔ اعجاز نے بتایا کہ یہ پہلا سال ہے اور کہا جارہا ہے کہ زعفران کی فصل دوسرے سال زیادہ تعداد میں پھول کھولتی ہے جس سے اس کی فصل میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا زعفران منافع بخش فصل ہے اور زعفران کی ایک کلو کی قیمت بارہ لاکھ روہے ہوتا ہے اس لئے یہ ہمارے لئے بھی حوصلہ آفزاٗ اور منافع بخش فصل ہے تو اب ان شاٗاللہ دوسرے سال اس کے ساتھ مزید محنت کریں گے ۔
ڈوڈباٗ سے تعلق رکھنے والے کاشتکار مختیار خان کا کہنا تھا کہ میں بھی اپنے ایک کنال کے زمین پر پہلی بار زعفران کاشت کی ہے جو پہلے ہی سال کامیابی سے زعفران کی پودے اگائے اور ساتھ ان میں خوبصورت پھول بھی ہوئی ہے جس کے اندر زعفران ہوتی ہے ۔مختیار خان نے محکمہ زراعت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ محکمہ نے زعفران کی بیج ہمیں مفت فراہم کیا اور ہم نے اسے کاشت کیا جو اب کامیابی کے ساتھ فصل دے رہا ہے اور امید ہے کہ اگلے سال پہلے سال سے زیادہ پھول اور اس میں پودے ہونگے۔
مختیار جو ایک زمینداری کے ساتھ ایک سماجی اور سیاسی کارکن بھی ہے تو وہ دوسروں کی نسبت زیادہ محنت اور شوق رکھتا ہے اور زعفران کئ ساتھ ساتھ مختلف دیگر پھل و میوہ جات جن میں فارسی من املوک کے باغات بھی لگائے ہیں اور اسی شوق کو پچھلے کئی سالوں سے کرتا آرہا ہے۔
تاہم زعفران کی ان علاقوں میں تجرباتی بنیادوں پر فصل کو کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچنے پر محکمہ ذراعت کے ڈائریکٹر اسلام الحق اور ڈی ڈی محمد پرویز خان نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمیں بہت خوشی ہوئی اللہ کے فضل اور زمینداروں کی محنت سے زعفران کی کاشت سولہ کنال اراضی پر کامیاب ہوا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ صوبائی حکومت کا اے ڈی پی کے تحت بیج ہمیں فراہم کئے گئے تھے۔ اور یہ تین سالہ پراجیکٹ ہے جس کا یہ پہلا مرحلہ تھا لیکن زعفران کا بلب ایک تو پاکستان میں نہیں ہوتا ہے یہ ایران اور افغانستان سے لائے جاتے ہیں ہم نے تجرباتیی بنیادوں پر کاشت کرنے زمینداروں کو مفت فراہم کی ہے لیکن تین سالہ پراجیکٹ کی تکمیل اور خاتمے کے بعد پھر زمیدار اسے رقم ادا کرکے بلب ،بیج خرید لیں گے۔
اسلام الحق نے بتایا کہ زعفران کی فصل تجرباتی طور پر تین تحصیلوں کے منتخب علاقوں کے زمینداروں نے سولہ کنال زمین پر ایک لاکھ چالیس ہزاربیج (بلب) ستمبرمیں لگائے جس کا ابتدائی تجربہ بہت کامیاب رہا اور زمیندار اس کی فصل ، پھول سے بہت خوش اور آئندہ بڑی تعداد میں مختلف علاقوں میں اگانے کا عزم کا اظہار کررہے ہیں کیونکہ یہ بہت فائدہ مند ذرائع آمدن ثابت ہوسکتا ہے جو کی پہلی بار خیبرپختونخوا کے سرد علاقوں میں تجرباتی بنیادوں پر کاشت کی گئی ۔
انہوں نے کہا کہ اپر دیر سمیت صوبہ خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں ایک سوچودہ کنال رقبے پر بھی کاشت کی جارہی ہے کیونکہ زعفران کا تجربہ پاکستان میں نیا ہے زعفران ایران اور افغانستان میں بڑی مقدار میں پیداوار ہوتی ہے ۔ اس لئے صوبہ خیبر پختونخوا میں محکمہ ذراعت نے حکومت کے تعاون سے صوبے کے سرد اور مناسب اب و ہوا والے علاقوں میں تین سالہ اے ڈی پی پروگرام کے تحت لگانے کا فیصلہ کیا جس کا پہلا مرحلہ کامیانی سے مکمل ہوا ہے۔
زعفران کی فصل وپیداوار سے ایک طرف مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوگی اوراس سے زمینداروں کا امدن کا اہم ذریعہ ہوگا ۔ ماہرین زراعت کے مطابق زعفران بہت قیمتی و منافع بخش کاروبار و فصل ہوتی ہے اور یہ کھانے کے علاوہ مختلف میڈسن ، چائے سمیت خوراکی اشیاء میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اور یہ فی ماسہ کے حساب سے ہزاروں روپے تک فروخت ہوتا ہے۔
زعفران اب دیر سمیت ضلع کے تین منتخب علاقوں میں کاشت کے ساتھ ساتھ خوشبو بکھرنے لگی ہے اور اسکی خوبصورت پھول دیکھنے دل کو سکون بھی میسر کرتی ہے ، مقامی سطح پر لگائے گئے زعفران کے بیج نے پہلے پودے اگاءے اور اب پودوں نے پھول دینا شروع کر دیا ہے۔ جوکہ یہ ایک اہم پیشرفت اور زمینداروں کیلءے خوش آءند و حوصلہ افزا بات ہے جو مستقبل میں اپر دیر سمیت صوبے کی معیشت اور زراعت کے لیے مفید اور سالانہ کروڑوں روپے کا آمدن کا زریعہ بھی بن سکتا ہے۔
حاجی رحمت علی سمیت دیگر زمینداروں کا کہنا ہے کہ ابتدئی طور پرہم بہت نروس اور ڈرے ہوئے تھے کہ اس ننے فصل زعفران کیلٗے ہم نے اپنے دیگر فصلوں کو رسک لیکرنقصان پہنچایا کہ اگر زعفران لگ بھی جاٗے تو کیا یہ کامیاب ہوگی یا نہیں ۔ لیکن اب پہلے مرحلے میں کامیابی سے انے والے سالوں میں مزید زیادہ زمین پر زعفران کاشت کریں گے کیونکہ یہ نیا لیکن منافع بخش ثابت ہورہا ہے۔
رحمت علی کا کہنا تھا کہ میں نے تو پہلے مرحلے بہت کوشش کی لیکن مجھے لیٹ خبر ملنے کے باعث زعفران کی بلب نہیں ملی لیکن امید کرتا ہوں کہ اگلے سال دوسرے مرحلے میں مجھے بھی زعفران کی بلب ملے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے کچھ سال قبل دوست کی وساطت سےزعفران کی بلب ،بیج لائے تھے جو کہ گھر میں کیاروں اور گملوں میں اگائے ہیں۔
ضلع اپر دیر میں محکمہ زراعت رجسٹرڈ زمینداروں کیلئے مختلف پھلوں اور میوہ جات کے باغات لگانے اور اس میں پودے اور درخت دینے کیلئے اقدامات کرتے آرہے ہیں جن میں فارسی املوک ،ناشپاتی، آخروٹ، سیب، لمیوں اور مالٹے شامل ہیں ۔تاہم اب صوبائی حکومت محکمہ زراعت کے تعاون سے اپردیرسمیت صوبے کے اٹھ اضلاع میں منافع بخش زعفران کی فصل کاشت کا تجربہ کیا گیا ہے جو انتہائی کا میاب ہوا جس کا کریڈٹ محکمہ زراعت کو جاتا ہے اور محکمہ زراعت کے آفسران اسی طرح مزید کوشش کرے تو ضلع اپردیر دیگر فصلوں کے ساتھ زعفران میں بھی خود کفیل اور یہاں کے لوگوں کے روگار میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔