پشاور ۔ خیبر پختونخواحکومت نے پشاور سمیت ضم قبائلی علاقوں اور صوبے کے دیگر اضلاع میں 30 نئے کالجوں کے قیام کی منظوری دی ہے۔ پشاور میں 3اور قسم قبائلی اضلاع میں 4 نئے کالج قائم ہونگے، مجموعی طور پر 30 ڈگری کا لجز کی فہرست کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
یہ کالجز ابتدائی طور پر کرائے کی عمارتوں میں قائم کیے جائیں گے تا کہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے طلبہ و طالبات کو اعلی تعلیم تک فوری رسائی فراہم کی جاسکے دستیاب دستاویز کے مطابق پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، خیبر، مہمند، بنوں ،لکی مروت ، شمالی وزیریستان، کوہاٹ، ٹانک، ملاکنڈ، دیر اپر، دیر لوئر، چترال، باجوڑ ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر اور ڈی آئی خان سمیت 30 اضلاع میں سرکاری ڈگری کالجز کی نشاندہی کی گئی ہے۔
پشاور میں جی ڈی سی ریگی، جی جی ڈی سی تی جی سی ایم ایس بڈھ بیر، چارسدہ منڈانی، سرڈھیری، نوشہرہ میں شیدو، خیشگی خیبر میں اکا خیل، لنڈیکوتل، کوہاٹ میں جرما، نمبر 4 پنڈی روڈ، ایبٹ آباد جی ڈی سی لورا، ڈی آئی خان میں موسی خیل، پر پولی شامل ہیں ذرائع کے مطابق چونکہ زیادہ تر علاقے تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں، اس لیے فوری ضرورت کے پیش نظر یہ ادارے کرائے کی عمارتوں میں قائم کیے جائیں گے کمیونٹی نمائندوں کے مشورے سے عمارتوں کا انتخاب کیا جا چکا ہے جبکہ عمارت کے مالک سے باضابطہ معاہدہ جے ایم سی کو آرڈی نیٹرز کے ذریعے کیا جائے گا۔
کرایہ بنیادی تخمینے اور ضرورت کے مطابق طے ہوگا۔ محکمہ ہائر ایجوکیشن کے مطابق منتخب عمارتوں کی معمولی مرمت مالک کے خرچ پر کرائی جائے گی جبکہ عمارت کا مکمل قبضہ لینے کے بعد ہی تدریسی عمل شروع کیا جائے گا۔
مزید بتایا گیا کہ تدریسی عملے کی بھرتی بھی پہلے سے طے شدہ قواعد کے مطابق کی جائے گی جبکہ مضامین اور کلاسز کا اجر اسیکر یٹری ہائر ایجوکیشن کی زیرنگرانی قائم ریویو کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق ہوگا۔ داخلوں میں ترجیح تعلیم سے محروم علاقوں کو دی جائے گی اجلاس میں یہ بھی زور دیا گیا کہ داخلوں کے اجرا اور کالجز کے قیام میں ترجیح ان علاقوں کو دی جائے جہاں داخلہ پوٹینشل زیادہ ہو اور آس پاس کوئی دوسرا کالج موجود نہ ہو۔