یونان کی دھرتی پر دس برس کی جدائی کا زخم لیے پردیس کی سختیوں سے لڑنے والا پاکستانی نوجوان احمر سیماب آخرکار اپنے اپنوں سے ملنے کے خواب کو حقیقت بنتا دیکھ رہا تھا 5 دسمبر کو اس کی پاکستان روانگی تھی، ڈاکومنٹس بھی مل گئے تھے، گھر میں شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں اور والدین کی دعاؤں میں نمی اور خوشی یکجا تھی۔
مگر قسمت نے ایسا وار کیا کہ وطن کی مٹی چومنے سے صرف دو دن پہلے احمر کا دل دھڑکنا بند ہوگیا۔ ہارٹ اٹیک نے برسوں کی تڑپ، امید اور انتظار کو ایک لمحے میں ماتم میں بدل دیا۔ فتح گڑھ کے گھر میں خوشیوں کی جگہ کہرام برپا ہے، ماں کی آہ اور باپ کا صدمہ سنبھالے نہیں سنبھل رہا۔
احمر سیماب کی نمازِ جنازہ جمعہ، 5 دسمبر کو آبائی گاؤں فتح گڑھ میں ادا کی جائے گی پردیس کی تلخیوں میں لپٹی یہ خبر ہر سننے والے دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔
اپنوں سے ملنے کا 10 سال کا طویل انتظار موت پر ختم یونان میں مقیم نوجوان احمر سیماب کی 5 دسمبر کو 10 سالوں بعد ڈاکومنٹس ملنے کے بعد پاکستان روانگی تھی مگر پاکستان روانگی سے دو دن پہلے ہارٹ اٹیک سے وفات ہو گئی۔