طالبان کے میڈیا دفتر کے مطابق صوبہ خوست میں ایک شخص کو سزائے موت دینے کے فیصلے کے بعد منگل کو ایک سپورٹس اسٹیڈیم میں سرِعام گولی مار دی گئی۔
اے ایف پی کے مطابق سٹیڈیم لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ خوست کے گورنر کے ترجمان مستغفر گرباز نے عوام سے کہا تھا کہ وہ اسٹیڈی میں اسمارٹ فون، کیمرے یا کوئی ہتھیار نہ لائیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سزائے موت پانے والے شخص کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی تھی اور پھر مقتول کے خاندان کے ایک فرد نے ان پر تین بار گولی چلائی۔
اے ایف پی کے مطابق 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سرِعام سزائے موت پانے والا یہ بارہواں شخص ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ ’مقتول کے لواحقین کو معافی اور صلح کی پیشکش کی گئی تھی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔‘
اسٹیڈیم میں موجود خوست کے رہائشی مجیب الرحمان رحمانی کے مطابق ایسے اقدام سے آئندہ کوئی قتل کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔‘
ان کے مطابق مجرم ان حملہ آوروں میں شامل تھا جنہوں نے جنوری 2025 میں ایک گھر پر فائرنگ کی تھی، جس میں 10 افراد مارے گئے تھے، جن میں تین خواتین بھی شامل تھیں۔