فیصل افریدی
شہرِ پشاور میں انگریز دورِ حکومت کے زیرِ تعمیر تاریخی پولیس اسٹیشن آہستہ آہستہ ماضی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ برطانوی دور میں بنائے گئے کئی قدیم تھانے آج بھی مختلف علاقوں میں موجود ہیں، مگر مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث وہ مستقل کنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں، جبکہ متعلقہ محکموں نے مکمل چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے۔
پشاور کے نواحی علاقے پولیس اسٹیشن متھرا کی عمارت، جو انگریز دور میں بلند و بالا دیواروں کے ساتھ تعمیر کی گئی تھی، کئی دہائیوں کی یادیں اپنے اندر سموئے ہوئے تھی، مگر عدم توجہی کے باعث بالآخر زمین بوس ہو گئی۔ اس کی جگہ نئی عمارت تو تعمیر کر دی گئی ہے، مگر تاریخی ورثے کی حفاظت کے لیے کوئی ٹھوس اقدام سامنے نہیں آیا۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کو چاہیے کہ گرتی ہوئی تاریخی عمارتوں کی از سرِ نو بحالی کرے اور انہیں بطور عجائب گھر محفوظ رکھا جائے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے ماضی سے آگاہ رہ سکیں۔ مگر افسوس کہ محکمہ آثارِ قدیمہ سمیت دیگر سرکاری ادارات کی بے حسی نے قیمتی ورثے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
پشاور کے قدیم تھانوں میں داؤد زئی پولیس اسٹیشن، شاہ قبول، ڈبگری، بڈھ بیر، متنی اور تھانہ جات شرقی و غربی شامل ہیں، جو اپنی منفرد فنِ تعمیر کے باعث تاریخی حیثیت رکھتے تھے، مگر دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث آہستہ آہستہ ختم ہوتے جا رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ تاریخی ورثے کی حفاظت نہ کرنا ہی وہ بڑی وجہ ہے جس کے باعث ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں اس طرح کی عمارات قومی شناخت کے طور پر محفوظ کی جاتی ہیں