خیبر پختونخوا میں HIV/AIDS کے کیسز مسلسل بڑھ رہے ہیں اور صوبائی ہیلتھ ڈیٹا کے مطابق مجموعی طور پر 8,356 مریض رجسٹر ہو چکے ہیں۔ صرف سال 2024 میں 1,147 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 1,486 اموات بھی ریکارڈ کی گئی ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتی ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق HIV کا پھیلاؤ بنیادی طور پر آگاہی کی کمی، غیر محفوظ سرنج کا استعمال، غیر معیاری خون کی منتقلی اور سماجی بدنامی کی وجہ سے بڑھ رہا ہے
قبائلی اضلاع میں بھی HIV کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دور دراز علاقوں میں بھی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔
البتہ “برفت انخامی” نامی علاقے کے حوالے سے کوئی مستند یا سرکاری HIV ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔
حکومتی اقدامات
• صوبے میں 13 مفت HIV اسکریننگ اور علاج مراکز فعال ہیں۔
• 2025 کی AIDS حکمتِ عملی کے مطابق ART (علاج) تک رسائی کو 81٪ تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
• نوجوانوں، خواتین اور خطرے والے گروہوں میں آگاہی مہمات تیز کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔
عوام سے اپیل محکمہ صحت نے عوام پر زور دیا ہے کہ
افواہوں سے بچیں، اور بروقت HIV ٹیسٹ کروائیں۔
HIV قابلِ علاج ہے، اس لیے متاثرہ افراد علاج میں تاخیر نہ کریں۔
سماجی بدنامی ختم کرنے میں ہر شہری اپنا کردار ادا کرے۔