حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ٹیکسٹ بک بورڈ نے 13 ارب روپے مانگ لئے، لاکھوں طلبہ کو درسی کتب میسر نہ آنے کا خدشہ Home / پاکستان /

ٹیکسٹ بک بورڈ نے 13 ارب روپے مانگ لئے، لاکھوں طلبہ کو درسی کتب میسر نہ آنے کا خدشہ

ایڈیٹر - 23/11/2025
 ٹیکسٹ بک بورڈ نے 13 ارب روپے  مانگ لئے،  لاکھوں طلبہ کو درسی کتب میسر نہ آنے کا خدشہ

 پشاور ۔ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ نے صوبائی حکومت سے گزشتہ کئی سالوں سے جمع ہونے والے واجبات اور رواں سال کے بل سمیت مجموعی طور پر 13.085 ارب روپے کے فنڈز مانگ لئے فنڈز کی بر وقت عدم ادائیگی سے تعلیمی سال 27-2026 ء کیلئے نصابی کتابوں کی خریداری اور ترسیل میں تاخیر کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ درخواست ٹیکسٹ بکس بورڈ کی جانب سے سیکرٹری خزانہ کو ارسال کردہ مراسلے میں کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ رواں تعلیمی سال 2025-26 کے لیے درسی کتب کا اصل بل 4.001 ارب روپے ہے جس کی ادائیگی تا حال نہیں ہوسکی۔

تعلیمی سال 2018-19 سے 2023-24 تک کے عرصے کے دوران جمع ہونے والے بقایا جات 9.084 ارب روپے ہیں، واجبات کی کل رقم 13.085 ارب روپے بنتی ہے، جس کے بغیر آئندہ سال کی خریداری کا عمل شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مراسلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ٹیکسٹ بک بورڈ نے تعلیمی سال 2026-27 کے لیے کتابوں کی خریداری کا ابتدائی مکمل مکمل کر لیا ہے تا ہم معاہدے کے اجراء کے لیے فنڈز کی فراہمی ضروری ہے مراسلے میں 2012ء کے ایکٹ کے سیکشن 22 اور جنرل فنانشل رول 9 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کسی بھی سرکاری ادارے کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ اخراجات یا واجبات اس وقت تک نہ کرے جب تک با قاعدہ منظوری اور فنڈز کی دستیابی یقینی نہ بنادی جائے فنڈز کی عدم دستیابی صورت حال کو پیچیدہ بنا سکتی ہے اور سرکاری خریداری کے عمل میں غیر معمولی تاخیر پیدا ہو سکتی ہے۔


خط میں خبر دار کیا گیا ہے کہ واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث آئندہ تعلیمی سال 2026-27 کے لیے کتابوں کی فراہمی خطرے میں پڑ سکتی ہے لاکھوں طلبہ کو نئے تعلیمی سال کے آغاز میں درسی کتب میسر نہ آنے کا خدشہ بڑھ جائے گا، آخر میں ٹیکسٹ بک بورڈ نے حکومت سے فوری اقدام کرنے کی درخواست کی ہے تا کہ آئندہ تعلیمی سرگرمیوں میں کوئی تعطل پیدا نہ ہو۔