جندول میں جماعت اسلامی کے سینئر رہنما صوبای نایب امیر جماعت اسلامی عنایت اللہ خان نے ماہانہ اجتماعِ عام سے مسجد بیت الجنہ، ثمرباغ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک پاکستان کا موجودہ فرسودہ نظام تبدیل نہیں ہوتا، ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ چہرے بدلنے سے کبھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ حکمران بدلتے رہے مگر ملک کی حالت مزید خراب ہوتی گئی۔ پاکستان اور عوام پہلے سے زیادہ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے گرداب میں پھنس گئے ہیں۔ دنیا جدید ترقی کی بلندیوں پر پہنچ چکی ہے، جبکہ ناہل حکمرانوں نے ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے اور اس کا خمیازہ آج عام پاکستانی بھگت رہا ہے۔
مسجد بیت الجنہ کے ہال میں موجود کارکنان اور ارکان جماعت سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو نئے چہروں کی نہیں بلکہ ایماندار، باصلاحیت اور وژن رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے، اس لیے انہیں کرپٹ نظام کے خاتمے کی جدوجہد میں جماعت اسلامی کا ساتھ دینا چاہیے۔
عنایت اللہ خان نے واضح کیا کہ کرپشن کے خلاف اجتماعی کوششیں ناگزیر ہوچکی ہیں، کیونکہ موجودہ نظام عوام کی امیدوں پر پورا نہیں اتر رہا۔ عوام حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں اور یہ تبدیلی صرف اُس وقت ممکن ہے جب ملک میں صاف، شفاف اور انصاف پر مبنی حکومتی ڈھانچہ قائم کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قرضوں کا پہاڑ، کمزور معیشت اور بدانتظامی نے عوام کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔
“پاکستان کی ترقی کا راستہ دیانتدار قیادت اور شفاف نظام سے ہو کر گزرتا ہے، اور جماعت اسلامی نوجوانوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ ملک کی تعمیر و اصلاح میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔”
اجتماع میں شریک عوام اور کارکنان نے بھی موجودہ حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔