پشاور ۔ صوبائی کابینہ نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے ایڈ ہاک وکنٹریکٹ پر بھرتی 14,001 اساتذہ کی مستقلی کیلئے ٹیچرز اپاؤ نٹمنٹ اینڈ ریگولرائزیشن آف سروسز ایکٹ 2022ء میں مجوزہ ترمیم کے مزید جائزے اور سفارشات کی تیاری کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔
کمیٹی میں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشید ایوب اور مشیر خزانہ مزمل اسلم شامل ہیں کمیٹی مسودے کا باریک بینی سے جائزہ لے کر آئندہ کا بیند اجلاس میں حتمی سفارشات پیش کرے گی ۔
ذرائع کے مطابق محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے اجلاس کو بتایا کہ 2017ء سے 2022ء کے دوران مجموعی طور پر 46,099 اساتذہ کو ایڈ ہاک بنیادوں پر تعینات کیا گیا تھا، بعد ازاں 2022 ء میں منظور کیے گئے۔
ریگولرائزیشن ایکٹ کے تحت ان اساتذہ کو مستقل کرنے کا عمل شروع ہوا تاہم 14,001 اساتذہ ( مرد وخواتین ) کوکٹ آف ڈیٹ کے باعث مستقل نہیں کیا جا سکا مزید بتایا گیا کہ یہ تمام اساتذہ بھی انہی اصولوں، اسی پالیسی اور اسی بنیاد پر بھرتی کیے گئے تھے جن پر دیگر ایڈ ہاک اساتذہ کو ریگولرائز کیا گیا تھا، تاخیر کی اہم وجہ ٹیسٹ وانٹرویو کے نتائج کا بر وقت جاری نہ ہونا تھا،
یا در ہے کہ پچھلے اجلاس میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ آیا ان 14,001 اساتذہ کی ریگولرائزیشن کنٹریکٹ یا ایڈ ہاک ملازمین کے خاتمے سے متعلق نئے ایکٹ 2025 ء سے تو متصادم نہیں ہوگی، محکمہ نے وضاحت کی کہ یہ ریگولرائز یشن ان ملازمین پر لاگو نہیں ہوگی جنہیں پہلے ہی نئی قانون سازی کے تحت ہٹایا جا چکا ہے ۔
محکم تعلیم نے کابینہ کوآگاہ کیا کہ تازہ ترین ریکارڈ کی جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ آخری ایڈ ہاک تقرری 25 جولائی 2025ء کو کی گئی تھی ، لہذا اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تاریخ کو بھی مجوزہ ترمیمی بل میں شامل کیا جائے تا کہ کسی بھی اہل استاد کو ریگولرائزیشن سے محروم نہ ہونا پڑے۔