پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا کہنا ہے کہ ایم ڈی کیٹ کے نمبر ز کم از کم 50 فیصد ہو تو سرکاری ونجی میڈیکل کالجز میں داخلے کیلئے شمار کئے جائیں گے وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈی نیشن سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان سیڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ہیڈ آفس میں منعقدہ پریس کانفرنس میں صوبائی حکام اور جامعات کو ہدایت کی ہے کہ وہ 26 اکتوبر 2025 کو منعقد ہونے والے ایم ڈی کیٹ کے امتحان کو آزاد، منصفانہ اور شفاف طریقے سے منعقد کریں، وزیر صحت نے اعلان کیا کہ پی ایم اینڈ ڈی سی نے ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے ایم ڈی کیٹ کیلئے ایک متحدہ قومی نصاب اور 6,000 سے زائد معیاری سوالات پر مشتمل آئٹم جینک تیار کیا ہے، یہ نصاب ملک بھر کے وائس چانسلرز اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کیا گیا۔ جامعات نے اسی قومی آئٹم بینک سے اپنے اطمینان کے مطابق سوالات تیار کیے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر خبر دار کیا کہ اگر ایم ڈی کیٹ کا پرچہ لیک ہوا تو اس کی ذمہ داری متعلقہ صوبائی حکومت اور یونیورسٹی پر عائد ہوگی۔