خیبرپختونخوا اینٹی کرپشن کا محکمہ صحت میں میگا کرپشن اسکینڈل پر بڑا ایکشن؛ "میسرز کمبائنڈ ون ٹریڈرز" کو کروڑوں روپے کی غیر قانونی ادائیگی کا انکشاف
پشاور (حسبان کرائم رپورٹر): ڈائریکٹر اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا ڈاکٹر محسن حبیب کی ہدایت پر محکمہ صحت میں ہونے والی مبینہ مالیاتی خورد برد اور کرپشن کے خلاف ایک انتہائی سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد محکمہ اینٹی کرپشن نے تادیبی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ڈی جی ہیلتھ سروسز سے تمام متعلقہ ریکارڈ 7 روز کے اندر طلب کر لیا ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ برائے مالی سال 2024-25 نے محکمہ صحت کے اندر جاری اس مبینہ مالی اندھیر نگری کا پردہ چاک کیا ہے، جس کے بعد مالیاتی اسکینڈل میں ملوث کرداروں کو بے نقاب کرنے کے لیے گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2023-24 میں ڈائریکٹوریٹ کے مخصوص بینک اکاؤنٹ سے "میسرز کمبائنڈ ون ٹریڈرز" نامی کمپنی کو 7 کروڑ 99 لاکھ 94 ہزار 804 روپے کی خطیر رقم خاموشی سے منتقل کی گئی، جبکہ متعلقہ بجٹ ہیڈ میں اس مد میں ایک روپیہ بھی موجود نہیں تھا۔ سنسنی خیز امر یہ ہے کہ اس خطیر رقم کے علاوہ بھی معمول کے بجٹ سے 1 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد کی اسٹیشنری الگ سے خریدی گئی، جس کمپنی کو کروڑوں کے ٹھیکے دیے گئے اس کی رجسٹریشن صرف آئی ٹی آلات کے لیے تھی اور اسٹیشنری کی سپلائی سے اس کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ فراہم کردہ بلوں پر سیریل نمبر اور تاریخیں غائب تھیں جبکہ 27 مارچ 2023 کو تشکیل دی گئی پرچیز کمیٹی سے کوئی منظوری ہی نہیں لی گئی تھی۔
سب سے مشکوک بات کاغذی کارروائی کا وہ مبینہ جادو ہے جس کے تحت خریداری کے مہینوں میں ہی 4 ہزار 800 ریم لیگل پیپر، 5 ہزار 200 ریم اے فور پیپر اور 1 ہزار 585 ٹونر کارٹریجز کا فوری استعمال دکھا دیا گیا، جبکہ پورے سال (جولائی 2023 سے جون 2024) کا ڈائری ڈیسپیچ ریکارڈ صرف 3 لاکھ 2 ہزار 206 خطوط کا ہے۔ اینٹی کرپشن نے ڈی جی ہیلتھ سروسز سے ٹینڈر فائلیں، کوٹیشنز، پرچیز کمیٹی کے منٹس، بینک اسٹیٹمنٹس اور واؤچرز سمیت پورا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے گریڈ 17 یا اس سے اوپر کے افسران کے نام اور عہدے ظاہر کرنے اور کیس کے لیے فوکل پرسن مقرر کرنے کا حکم دے دیا ہے۔