حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
خیبرپختونخوا حکومت کا 20 ہزار گریجویٹس کے لیے فلیگ شپ انٹرن شپ پروگرام، ماہانہ 30 ہزار روپے وظیفہ مقرر Home / پاکستان /

خیبرپختونخوا حکومت کا 20 ہزار گریجویٹس کے لیے فلیگ شپ انٹرن شپ پروگرام، ماہانہ 30 ہزار روپے وظیفہ مقرر

ایڈیٹر - 07/11/2026
خیبرپختونخوا حکومت کا 20 ہزار گریجویٹس کے لیے فلیگ شپ انٹرن شپ پروگرام، ماہانہ 30 ہزار روپے وظیفہ مقرر

نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا عزم: خیبرپختونخوا حکومت کا 20 ہزار گریجویٹس کے لیے 2 ارب روپے کی لاگت سے فلیگ شپ انٹرن شپ پروگرام کا فیصلہ

پشاور (حسبان نیوز ڈیسک): خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ایک تاریخی "خیبرپختونخوا انٹرن شپ پروگرام" شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فلیگ شپ منصوبے کے تحت صوبے کے 20 ہزار گریجویٹس کو مختلف ترجیحی صنعتوں، نجی سافٹ ویئر ہاؤسز، اور کاروباری اداروں میں 3 ماہ پر مشتمل عملی تربیت فراہم کی جائے گی۔ حکومتِ خیبرپختونخوا کی جانب سے اس انقلابی منصوبے کی مجموعی لاگت 2 ارب روپے تجویز کی گئی ہے، جس کے تحت ہر منتخب گریجویٹ کو ماہانہ 30 ہزار روپے کا معقول وظیفہ دیا جائے گا۔ منصوبے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں صنفِ نازک کی حوصلہ افزائی کے لیے 50 فیصد کوٹہ خواتین اور 50 فیصد مردوں کے لیے مختص کیا گیا ہے، جبکہ درخواست گزاروں کے لیے کم از کم 3 سی جی پی اے (CGPA) اور خیبرپختونخوا کا ڈومیسائل ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں گورنر خیبرپختونخوا کے مشیر برائے تعلیم و سماجی بہبود ڈاکٹر عامر عبداللہ کی زیرِ صدارت ان کے دفتر میں ایک اہم بریفنگ اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسپیشل سیکریٹری اعلیٰ تعلیم فضل حسین اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے پروفیسر ڈاکٹر ظہور جان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران مشیرِ تعلیم کو منصوبے کے خدوخال اور رجسٹریشن کے لیے تیار کردہ مرکزی آن لائن پورٹل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈاکٹر عامر عبداللہ نے حکام کو سخت ہدایت جاری کیں کہ انٹرن شپ پروگرام کے تحت میرٹ کی شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس کے لیے باقاعدہ ضوابط اور جامع گائیڈ لائنز وضع کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی، فارماسیوٹیکل، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، سیاحت، معدنیات، زراعت اور ہیلتھ ورکرز جیسے جدید مارکیٹ کی طلب والے شعبوں کو ترجیح دی جائے تاکہ نوجوانوں کو ان کی تعلیم سے ہم آہنگ عملی تجربہ مل سکے۔

مشیر تعلیم نے مزید ہدایت کی کہ پروگرام کو اضلاع کی آبادی کے تناسب سے تقسیم کیا جائے تاکہ پسماندہ اضلاع کے نوجوان بھی مستفید ہو سکیں، جبکہ معیاری مینٹورز کا ایک جامع ڈیٹا بیس بھی تشکیل دیا جائے۔ انہوں نے گریجویٹس کو وظائف کی ادائیگی کے لیے مکمل طور پر پیپر لیس (آن لائن) اور شفاف نظام متعارف کرانے پر زور دیا تاکہ نوجوانوں کو ان کا وظیفہ ایک ہی دن میں بروقت منتقل کیا جا سکے۔ متعلقہ حکام نے مشیر تعلیم کو یقین دہانی کرائی کہ تکنیکی اصلاحات کے بعد ایک ہفتے کے اندر مرکزی آن لائن رجسٹریشن پورٹل کو مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔ معاشی اور تعلیمی ماہرین نے صوبائی حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے صنعت اور تعلیمی اداروں کے مابین دوریوں کو ختم کرنے کا ایک بہترین ذریعہ قرار دیا ہے۔