سیاسی افواہ سازی میں عملی طور پر کم اور پروپیگنڈا زیادہ ہے، حکومت مولانا فضل الرحمان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ رکھنے کی خواہشمند ہے: مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللہ
اسلام آباد (حسبان نیوز ڈیسک): وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی بے حد قدر اور عزت کرتے ہیں اور حکومت ہرگز یہ نہیں چاہے گی کہ مولانا سیاسی طور پر ان کے خلاف کھڑے ہوں۔ جیو نیوز کے پروگرام "نیا پاکستان" میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ملکی سیاسی صورتحال، جے یو آئی سربراہ کے خلاف مبینہ کارروائیوں اور سیکیورٹی چیلنجز پر کھل کر اظہار خیال کیا۔
مشیر سیاسی امور کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت ایک پراسرار اور غیر یقینی ماحول پایا جاتا ہے جہاں ہر وقت افواہ سازی کا بازار گرم رہتا ہے۔ وفاقی وزیر چوہدری سالک کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے اسے نامناسب قرار دیا اور کہا کہ لوگ اکثر بغیر ثبوتوں کے دعوے کرتے ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی حلقوں میں خواہشات اور پروگرام تو ہوتے ہیں لیکن ان باتوں میں عملی اقدامات سے زیادہ سینہ گزٹ اور پروپیگنڈے کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔ فیصل واوڈا کی گفتگو کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کے پاس ثبوت نہیں ہوتے، لیکن بعض اوقات ان کی باتوں کا کچھ حصہ زمینی حقائق سے میل کھاتا دکھائی دیتا ہے کیونکہ یہ چیزیں کسی نہ کسی جگہ سے آپریٹ ہو رہی ہوتی ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کے خلاف حکومتی اداروں کی مبینہ کارروائیوں کے سوال پر رانا ثنا اللہ نے اعتراف کیا کہ تجاوزات کے خاتمے جیسے امور متعلقہ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہیں، تاہم بعض اوقات گارڈ کیبن جیسی تجاوزات کو نظر انداز بھی کیا جاتا ہے۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ وزیراعظم نے مولانا کے خلاف کسی کارروائی کا حکم دیا ہے اور نہ ہی کسی کو روکا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کی ابتر صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ اس وقت ملکی ترجیح صرف اور صرف دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ سینیٹر رانا ثنا اللہ نے سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مولانا فضل الرحمان کو قومی دھارے میں شامل رکھنا چاہیے، کیونکہ وہ خود دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے بھتے کی پرچیاں ملنے کا بھی انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کی مخلصانہ سوچ یہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مولانا فضل الرحمان کو اپنے ساتھ کھڑا کیا جائے۔