حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
دھرنے اور احتجاج سے معیشت کو 120 ارب کا جھٹکا؟ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خبردار کردیا Home / سیاست /

دھرنے اور احتجاج سے معیشت کو 120 ارب کا جھٹکا؟ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خبردار کردیا

ایڈیٹر - 20/09/2026
دھرنے اور احتجاج سے معیشت کو 120 ارب کا جھٹکا؟ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خبردار کردیا

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان معاشی استحکام کے مرحلے سے نکل کر معاشی ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم احتجاج، ہڑتالوں اور دھرنوں کے باعث معاشی سرگرمیوں میں خلل پڑنے کی صورت میں ملک کو یومیہ تقریباً 120 ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملکی معیشت میں استحکام کے آثار نمایاں ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر بلند سطح پر پہنچ چکے ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہے اور ترسیلات زر میں بھی مسلسل بہتری آرہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا موجودہ ہدف معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔

وزیر خزانہ نے موجودہ عالمی صورتحال بالخصوص مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو بھی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کی صورتحال کے باعث عالمی تجارت متاثر ہورہی ہے، جبکہ سپلائی چین میں رکاوٹوں کے ساتھ فریٹ اور انشورنس اخراجات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

محمد اورنگزیب کے مطابق ایسے حالات میں ملک کے اندر مارچ، ہڑتالوں اور دھرنوں کے ذریعے معاشی سرگرمیوں میں مزید تعطل پیدا کرنا تشویش کا باعث ہے، کیونکہ اس سے معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہوسکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت اور پلاننگ کمیشن کے اکنامک ونگ نے ماضی کے تجربات اور موجودہ معاشی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے معاشی سرگرمیوں میں تعطل کے ممکنہ اثرات کا تخمینہ لگایا ہے، جس کے مطابق مجموعی یومیہ نقصان تقریباً 120 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق خدمات کے شعبے میں یومیہ تقریباً 86 ارب روپے کے نقصان کا خدشہ ہے، جس میں مالیاتی خدمات، مواصلات، ٹرانسپورٹ، ریٹیل، ہول سیل اور ہوٹلنگ سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی سرگرمیوں میں رکاوٹ سے تقریباً 25 ارب روپے یومیہ نقصان ہوسکتا ہے، جبکہ زرعی شعبے سے متعلق سرگرمیوں کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ تقریباً 9 ارب روپے روزانہ ہے۔ معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے کی صورت میں تقریباً 17 ارب روپے کے ریونیو نقصان کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ احتجاج اور دھرنوں کے اثرات بالخصوص دیہاڑی دار مزدوروں، چھوٹے دکانداروں اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ افراد تک پہنچ سکتے ہیں، اس لیے معاشی سرگرمیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پاکستان کو معاشی استحکام حاصل کرنے میں مشکل فیصلوں اور مسلسل کوششوں سے گزرنا پڑا ہے اور اب ملک ترقی کے اگلے مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

محمد اورنگزیب نے ملک میں جاری دہشت گردی کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ اس کے پیچھے دشمن قوتیں ہیں، جبکہ سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں قربانیاں دے رہی ہیں۔