حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری منصوبوں کا اصل مقصد تحقیق اور جدت کو عوامی فائدے میں تبدیل کرنا ہے، شفیع جان Home / سیاست /

ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری منصوبوں کا اصل مقصد تحقیق اور جدت کو عوامی فائدے میں تبدیل کرنا ہے، شفیع جان

ایڈیٹر - 20/09/2026
ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری منصوبوں کا اصل مقصد تحقیق اور جدت کو عوامی فائدے میں تبدیل کرنا ہے، شفیع جان

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): خیبرپختونخوا حکومت نے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں مقامی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ مصنوعی جلد، مقامی پی سی آر کٹس، ڈرون ٹیکنالوجی، ای رکشہ اور ای بستہ سمیت متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔

وزیر اطلاعات و سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی خیبرپختونخوا شفیع جان نے ڈائریکٹوریٹ جنرل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کا دورہ کیا، جہاں ڈائریکٹر جنرل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ساجد حسین شاہ نے انہیں محکمہ کے جاری منصوبوں، تحقیقی سرگرمیوں اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لاتے ہوئے خود انحصاری اور معاشی استحکام کی جانب بڑھنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی سہولتوں میں بہتری کے ساتھ نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق اور اس کے عملی استعمال کو فروغ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے مقامی سطح پر فضائی روبوٹکس کی تیاری پر بھی توجہ دینے پر زور دیا۔

انہوں نے پشاور میں مفت وائی فائی سروس کا دائرہ مزید وسیع کرنے، صوبے کے پہلے سائنس و ٹیکنالوجی میوزیم کے قیام کے لیے اقدامات تیز کرنے اور ای رکشہ منصوبے کو عملی شکل دینے کی ہدایت کی۔ طلبہ کے لیے ای بستہ منصوبے پر بھی جلد پیش رفت یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔

بریفنگ کے دوران حکام نے بتایا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ مصنوعی جلد کی تیاری اور مختلف بیماریوں کی تشخیص کے لیے مقامی پی سی آر کٹس سمیت کئی جدید مصنوعات پر کام کیا جا رہا ہے۔ سرکاری سطح پر دستیاب معلومات کے مطابق مصنوعی جلد اور مقامی تشخیصی کٹس سمیت مختلف ٹیکنالوجی مصنوعات صوبے میں جاری مقامی تحقیق کا حصہ ہیں۔

حکام کے مطابق ان منصوبوں کا ایک اہم مقصد ٹیکنالوجی کی مقامی سطح پر تیاری کو فروغ دینا اور درآمدی مصنوعات پر انحصار کم کرنا ہے۔ اوپن وائی فائی منصوبے کے تحت بڑے سرکاری ہسپتالوں اور عوامی مقامات پر شہریوں کو مفت انٹرنیٹ کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ روایتی بارود کے نسبتاً صاف متبادل کے طور پر مائع آکسیجن پر مبنی کان کنی کی ٹیکنالوجی پر تحقیق جاری ہے، جبکہ ایس آئی ٹی ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈینگی مچھروں کے تدارک کے منصوبے پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔

محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے تحقیقی اور پالیسی سے متعلق ڈیجیٹل ریکارڈ کو منظم کرنے کے لیے مرکزی ڈیٹا ایکسچینج ہب اور مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم قائم کیے جانے سے متعلق بھی صوبائی وزیر کو آگاہ کیا گیا۔

حکام کے مطابق ای بستہ منصوبے کے تحت 9ویں سے 12ویں جماعت کے طلبہ میں 2,500 ٹیبلیٹس تقسیم کیے جائیں گے، جن میں ٹیکسٹ بک بورڈ کے نصاب سے ہم آہنگ ڈیجیٹل تعلیمی مواد فراہم کیا جائے گا۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ فاٹا یونیورسٹی میں ٹیکنالوجی انکوبیشن سینٹر قائم کیا جا رہا ہے، جہاں نوجوانوں کو اسٹارٹ اپس اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے تربیت، رہنمائی اور دیگر معاونت فراہم کی جائے گی۔

محکمہ کے مطابق سائنس و ٹیکنالوجی کے طلبہ کو 210 تحقیقی گرانٹس جبکہ 18 طلبہ اور محققین کو بیرون ملک تحقیق کے لیے گرانٹس فراہم کی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ طب، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں 10 سے زائد مصنوعات کی تیاری پر بھی کام جاری ہے۔

شفیع جان نے کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری منصوبوں کا اصل مقصد تحقیق اور جدت کو عوامی فائدے میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو تمام منصوبوں پر عملی پیش رفت مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔