حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ملکی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی، جون میں جاری کھاتے کا خسارہ بڑھ گیا، ماہرین نے حکومت کو فوری اقدامات کا مشورہ دے دیا Home / پاکستان /

ملکی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی، جون میں جاری کھاتے کا خسارہ بڑھ گیا، ماہرین نے حکومت کو فوری اقدامات کا مشورہ دے دیا

ایڈیٹر - 20/07/2026
ملکی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی، جون میں جاری کھاتے کا خسارہ بڑھ گیا، ماہرین نے حکومت کو فوری اقدامات کا مشورہ دے دیا

ویب ڈیسک: جون دو ہزار چھبیس کے دوران پاکستان کے جاری کھاتے کا خسارہ چھ سو انچاس ملین ڈالر تک پہنچ گیا، جس کے بعد معاشی ماہرین، مالیاتی اداروں اور سرمایہ کار حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونی شعبے پر بڑھتا ہوا دباؤ مستقبل میں معیشت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق جاری کھاتہ کسی بھی ملک میں بیرون ملک سے آنے اور جانے والے زرِمبادلہ کے مجموعی توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں برآمدات، درآمدات، خدمات، معلوماتی ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والی آمدن اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بھیجی گئی رقوم شامل ہوتی ہیں۔ جب اخراجات آمدن سے بڑھ جائیں تو اس فرق کو غیر ملکی سرمایہ کاری، بیرونی قرضوں، امدادی رقوم یا دیگر مالی ذرائع سے پورا کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں جون دو ہزار چھبیس کے دوران برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا، جبکہ درآمدات کا حجم تقریباً ایک ارب ڈالر بڑھ گیا۔ عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں، مائع قدرتی گیس، کوئلے، کیمیائی اشیا اور بحری مال برداری کے اخراجات میں اضافے نے درآمدی بل کو مزید بلند کر دیا۔

دوسری جانب بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں تقریباً نو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ حجم اکتالیس ارب ڈالر کے قریب پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق اگر ترسیلاتِ زر میں یہ اضافہ نہ ہوتا تو بیرونی مالیاتی دباؤ کہیں زیادہ سنگین صورت اختیار کر سکتا تھا۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ مالیاتی منصوبے میں برآمد کنندگان پر عائد اضافی ٹیکس کا خاتمہ، خام مال اور درمیانی درجے کی صنعتی مصنوعات پر درآمدی محصولات میں کمی، اور کم از کم ٹیکس کی شرح میں کمی جیسے اقدامات مثبت پیش رفت ہیں، تاہم معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات ناگزیر ہیں۔

ماہرین نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ برآمدات میں سالانہ کم از کم پندرہ فیصد اضافے کا واضح ہدف مقرر کیا جائے، نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جائے، زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے اور اعلیٰ معیار کی غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے مؤثر پالیسیاں اختیار کی جائیں۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر جاری کھاتے کا خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے دو فیصد سے کم رہے تو اسے قابلِ برداشت سمجھا جا سکتا ہے، تاہم سیاسی غیر یقینی، سرکاری اخراجات میں اضافے اور درآمدی طلب بڑھنے کی صورت میں خسارہ دوبارہ خطرناک حد تک بڑھنے کا امکان موجود ہے۔

تجزیہ کاروں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت برآمدی شعبے سے وابستہ بڑے کاروباری اداروں کے ساتھ باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرے تاکہ برآمدات میں حائل رکاوٹوں کو بروقت دور کرتے ہوئے ملکی زرِمبادلہ میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔