اسلام آباد : سعودی عرب کے بعد اب خلیجی ملک کویت نے بھی پاکستان کے ساتھ عسکری اور دفاعی تعاون کے ایک بڑے فریم ورک میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، کویت پاکستان کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو نمایاں طور پر وسعت دینے کا خواہاں ہے اور اس سلسلے میں کویتی حکام نے پاکستانی عسکری و سیاسی قیادت سے رابطوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کویت، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دہائیوں پر محیط موجودہ عسکری تعاون کے کامیاب ماڈل سے استفادہ کرتے ہوئے اسی طرز کا ایک جامع معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ تزویراتی صورتحال، بالخصوص ایرانی حملوں اور اسرائیلی دھمکیوں کے تناظر میں عرب ممالک کو سلامتی کے شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان بدلتے ہوئے حالات میں خلیجی ممالک کے لیے اب امریکہ ایک قابلِ اعتماد شراکت دار نہیں رہا، جس کی وجہ سے وہ خطے کے دیگر مضبوط مسلم ممالک کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور کویت کے درمیان جن شعبوں میں تعاون پر غور کیا جا رہا ہے، ان میں مشترکہ عسکری مشقیں، فوجیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، دفاعی مہارت اور تکنیکی تعاون کا تبادلہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے مابین اعلیٰ سطحی عسکری وفود کے تبادلوں اور دفاعی سلامتی کے امور پر قریبی رابطہ کاری کو بھی حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور کویت کے درمیان پہلے سے ہی محدود دفاعی روابط موجود ہیں، تاہم کویتی قیادت اب اسے ایک باقاعدہ اسٹریٹجک فریم ورک کی شکل دینا چاہتی ہے جیسا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ قائم ہے۔ اگرچہ اب تک پاکستان یا کویت کی جانب سے کسی نئے دفاعی معاہدے یا مخصوص منصوبے کا باضابطہ اور اعلانیہ اظہار نہیں کیا گیا، تاہم معتبر رپورٹوں کے مطابق یہ معاملہ اس وقت دونوں برادر ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی مشاورت کے مراحل میں ہے، جسے جلد حتمی شکل دیے جانے کی توقع ہے۔