وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا بجلی کے جاری اور زیر التوا منصوبوں کا تفصیلی جائزہ، 1638 کیسز فوری نمٹانے کی سخت ہدایت
پشاور ( حسبان میڈیا): وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبے میں بجلی سے متعلق جاری اور تعطل کا شکار ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران صوبے میں بجلی کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جہاں حکام نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف نوعیت کے 1638 کیسز انتظامی اور تکنیکی وجوہات کی بنا پر تاحال زیر التوا ہیں۔ اس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ان تمام کیسز کو جلد از جلد اور ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اس بات پر شدید تشویش اور برہمی کا اظہار کیا کہ متعلقہ محکموں کو ادائیگیاں کیے جانے کے باوجود صوبے کے مختلف علاقوں میں بجلی کے کھمبوں، ٹرانسفارمرز اور دیگر ضروری تکنیکی سامان کی عدم فراہمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو کڑے الفاظ میں تنبیہ کی کہ اس سنگین مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے ہنگامی اور مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ سرکاری فنڈز کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (PESCO)، ٹرائبل الیکٹرک سپلائی کمپنی (TESCO) اور ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (HAZECO) کو براہِ راست احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام زیر التوا کیسز کو فوری طور پر نمٹائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شدید گرمی اور موسم کی سختیوں کے پیشِ نظر عوام کو بجلی کی بلاتعطل فراہمی میں مزید کوئی بھی تاخیر یا غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
صوبائی حکومت کی حکمتِ عملی کو واضح کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے متعلقہ محکموں کے لیے سخت ڈیڈ لائنز کا تعین کر دیا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ خیبرپختونخوا کے شدید گرم علاقوں میں بجلی کی جاری تمام اسکیموں کو ہر صورت ستمبر 2026 تک، جبکہ صوبے کے دیگر معتدل اور سرد علاقوں میں جاری منصوبوں کو دسمبر 2026 تک مکمل کر کے ہر حال میں فعال بنایا جائے، تاکہ صوبے کی غیور عوام کو بجلی کی لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج کے عذاب سے مستقل ریلیف فراہم کیا جا سکے۔