لندن: برطانیہ کے سیاسی منظر نامے سے اس وقت کی سب سے بڑی خبر سامنے آئی ہے جہاں برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد ملکی سیاست میں شدید ہیجان پیدا ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر ہنگامی پریس بریفنگ کے دوران عالمی میڈیا کے سامنے اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں بار بار یہ تاثر دیا گیا کہ ہماری پارٹی کمزور ہو کر ختم ہو چکی ہے، اسی لیے وہ پارٹی کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے لیبر پارٹی کی قیادت اور وزارتِ عظمیٰ سے الگ ہو رہے ہیں۔ کیئر اسٹارمر نے بتایا کہ انہوں نے آج صبح برطانوی فرمانروا کنگ چارلس سے ٹیلی فون پر طویل گفتگو کی اور انہیں اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ لیبر پارٹی میں قیادت کے نئے انتخابی عمل کی تکمیل تک وہ عارضی طور پر بطور وزیراعظم اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔
برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ پارٹی کی جانب سے منتخب ہو کر آنے والے نئے وزیراعظم کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے اور اقتدار کی منظم، پرامن اور ہموار منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائیں گے۔ واضح رہے کہ کیئر اسٹارمر نے جولائی 2024 کے عام انتخابات میں تاریخی اور بھاری اکثریت حاصل کر کے 14 سال سے جاری کنزرویٹو پارٹی کے اقتدار کا خاتمہ کیا تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، گزشتہ ایک دہائی کے دوران برطانیہ میں چھٹے وزیراعظم کا اس طرح قبل از وقت مستعفی ہونا ملکی سیاسی نظام اور معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔