حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
اسرائیلی سروے نے تہلکہ مچا دیا، اکثریت نے ایران کو جنگ کا فاتح قرار دے دیا Home / بین الاقوامی /

اسرائیلی سروے نے تہلکہ مچا دیا، اکثریت نے ایران کو جنگ کا فاتح قرار دے دیا

ایڈیٹر - 23/06/2026
اسرائیلی سروے نے تہلکہ مچا دیا، اکثریت نے ایران کو جنگ کا فاتح قرار دے دیا

یروشلم: اسرائیل میں ہونے والے ایک حالیہ عوامی سروے نے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں شرکاء کی بڑی تعداد نے ایران کو حالیہ تنازع اور اس کے بعد ہونے والی سفارتی پیش رفت کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا فریق قرار دیا ہے۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی عوامی رائے پر مبنی اس سروے میں زیادہ تر شرکاء نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایران نہ صرف جنگی صورتحال میں مضبوط رہا بلکہ بعد ازاں ہونے والے مذاکرات اور معاہدوں میں بھی بہتر پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

یہ سروے یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی اور آگام انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے 17 سے 20 جون کے دوران کیا گیا، جس میں تین ہزار چھ سو چوالیس افراد نے حصہ لیا۔ سروے کے نتائج اتوار کو جاری کیے گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق 92.1 فیصد شرکاء نے رائے دی کہ ایران اس تنازع میں کامیاب رہا یا اسے اسرائیل کے مقابلے میں زیادہ سیاسی اور سفارتی فائدہ حاصل ہوا۔

اسی طرح 82.9 فیصد افراد کا خیال تھا کہ حالیہ جنگ کے نتیجے میں اسرائیل کی طویل المدتی سلامتی اور سیکیورٹی صورتحال متاثر ہوئی ہے۔

سروے میں یہ پہلو بھی نمایاں رہا کہ دائیں بازو کے سیاسی اتحاد کے حامیوں میں بھی ایران کے بارے میں اسی نوعیت کی رائے سامنے آئی۔ نتائج کے مطابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے حامیوں میں شامل 93.1 فیصد شرکاء نے بھی ایران کو زیادہ فائدہ حاصل کرنے والا فریق قرار دیا۔

امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ معاہدے کے حوالے سے بھی عوامی سطح پر اختلافات دیکھنے میں آئے۔ سروے میں شامل 63.2 فیصد افراد نے معاہدے کی مخالفت کی، جبکہ صرف 12.1 فیصد شرکاء نے اس کی حمایت کا اظہار کیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیلی معاشرے کے ایک بڑے حصے میں حالیہ جنگ، علاقائی صورتحال اور سفارتی پیش رفت کے حوالے سے سنجیدہ خدشات موجود ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سروے نے اسرائیل کے اندر عوامی رائے اور حکومتی مؤقف کے درمیان پائے جانے والے فرق کو بھی نمایاں کر دیا ہے، جبکہ خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں ان نتائج کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔